گریڈ 22 کے ریٹائر بیوروکریٹ کو ایم ون میں مشیر مقرر کر دیا گیا

اسلام آباد (عترت جعفری) وفاقی وزارت خزانہ جو قومی خزانے کی نگہبان ہے اور دوسری وزارتوں اور ڈویژنز کو مالیاتی نظم و ضبط کی ہمہ وقت نصیحت کرتی رہتی ہے مالی معاملات اور قواعد کی خلاف ورزی کی کس طرح مرتکب ہوتی ہے اس کی ایک ہلکی سی جھلک آڈٹ سال 2012-13 سے کی جا سکتی ہے جس میں ہوشربا انکشافات موجود ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے گریڈ 22 میں ریٹائر ہونے والے ایک بیوروکریٹ کو ایم ون میں مشیر مقرر کر دیا اس کے لئے اخبار میں کوئی اشتہار نہیں دیا گیا جبکہ مقرر شدہ مشیر پروفیشنلز کی تعریف پر پورا نہیں اترتے تھے۔ وزارت خزانہ نے اعتراض پر موقف اختیار کیا کہ تعیناتی وزیراعظم نے کی ہے اور پوسٹ نکالی گئی ہے۔ آڈٹ نے اس جواب کو تسلیم نہیں کیا اور ہدایت کی کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے۔ سال 2011-12 میں وزارت خزانہ کے افسروں کو 12 کروڑ روپے کا اعزازیہ دیا گیا اس پر انکم ٹیکس بھی نہیں کاٹا گیا۔ یہ سفارش کی گئی کہ ادا شدہ اعزازیہ واپس لیا جائے۔