سکندر نے معمول کا کھانا پینا شروع کر دیا اسلحہ فراہم کرنے والے ملزم اختر کا14روزہ جوڈیشل ریمانڈ

سکندر نے معمول کا کھانا پینا شروع کر دیا  اسلحہ فراہم کرنے والے ملزم اختر کا14روزہ جوڈیشل ریمانڈ

اسلام آباد + حافظ آباد (آن لائن+ نمائندہ نوائے وقت) اسلام آباد واقعہ کے ملزم سکندر کو وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے، اس نے معمول کا کھانا پینا شروع کر دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت میں پیش کرنے میں طبی طور پر کوئی رکاوٹ نہیں۔ اسلام آباد واقعہ کے ملزم سکندر کو گزشتہ روز آئی سی یو سے سرجیکل آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا تاہم آج انہیں وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے سکندر کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اس نے معمول کا کھانا پینا شروع کر دیا ہے۔ ادھر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسلام آباد واقعے کے مرکزی ملزم سکندر کو اسلحہ فراہم کرنے والے ملزم اختر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ سکندر کو اسلحہ فراہم کرنے والے ملزم اختر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد پیش کردیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج عتیق الرحمن نے ملزم اختر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ دوران تفتیش ملزم اختر نے انکشاف کیا ملزم سکندر نے مجھے ایک لاکھ روپیہ دیا جس پر میں نے اسے دو رائفلز اور راﺅنڈ فراہم کئے تاہم مجھے قطعاً علم نہیں تھا سکندر اسلحہ ناپسندیدہ سرگرمیوں میں استعمال کرے گا اس نے مجھے گھر کی حفاظت کیلئے اسلحہ خریدنے کا کہا تھا ملزم اختر نے دوران تفتیش بتایا ملزم سکندر میرے ساتھ دبئی میں رہا اس سے پہلے کوئی بات سامنے نہ آسکی سکندر کسی قسم کی ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتا ہے۔ میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں اگر مجھے علم ہوتا تو میں سکندر کو اسلحہ فراہم نہ کرتا۔ علاوہ ازیں اسلام آباد بلیوایریا فائرنگ کیس میں گرفتار سکندر کے ہمسائے عبیداللہ کے اہل خانہ اور انکے بھائیوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا کسی کالعدم تنظیم اور عسکری ونگ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ہے۔ ہمارا سکندر نامی شخص اور اس کے عزائم سے کوئی تعلق نہیںہے بلکہ ہم اس واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے بھائی کو صرف اور صرف اس کا ہمسایہ ہونے کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا پولیس ہمارے بھائی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے گئی ہے اور ابھی تک اُسے کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ۔ عبید اللہ کے اہلخانہ نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا عبیداللہ کی میرٹ پر تفتیش کی جائے اوراگر عبید اللہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں تو اُسے فی الفور رہا کی جائے۔