پی آئی اے کے حالات نجکاری کیلئے خراب کئے جا رہے ہیں‘ قائمہ کمیٹی کی شدید برہمی

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق کو بتایا گیا بوئنگ 747 اور 737 کباڑ میں تبدیل ہو چکے، جلد ہی سکریپ فروخت کر دیں گے، 10 نئے جہاز ڈرائی لیز پر لئے جا رہے ہیں، پی آئی اے نے 288 ارب روپے ادا کرنا ہیں، کمیٹی نے پی آئی اے کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا پی آئی اے کے حالات اس لئے خراب کئے جا رہے ہیں تا کہ نجکاری کی جا سکے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اسد الرحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی کے علاوہ وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد، سیکرٹری ایوی ایشن، ایم ڈی پی آئی اے سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے اقلیتی رکن ڈاکٹر رمیش کمار کو آف لوڈ کرنے کی تحریک استحقاق اور عمران احمد شاہ ایم این اے کی تحریک استحقاق پر غور کیا۔ عمران احمد شاہ نے کہا کیبن کریو اور گراﺅنڈ سٹاف کو احساس ذمہ داری نہیں، اب جس نے بددعا دینی ہو وہ کہتا ہے کہ جاﺅ پی آئی اے میں سفر کرو، ایک سال میں مسلسل کوئی فلائٹ بروقت نہیں آئی، رکن کمیٹی شگفتہ جمانی نے کہا پی آئی اے کو آگے چلانے کا موڈ نہیں لگتا، مسافر لائنوں میں ہیں اور پی آئی اے خسارے میں۔ پی آئی اے میں سفر کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایم این اے کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہیں کوئی بے عزتی نہ کر دے، عمرہ زائرین کو بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا جاتا ہے، ایئرپورٹ پر پیسے بٹورنے کا دھندہ چل رہا ہے۔ ایم ڈی نہ فون کال اٹھاتے ہیں اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی جواب ملتا ہے، کمیٹی کو بتایا جائے ایم ڈی کی تنخواہ کتنی ہے۔ عمران ظفر لغاری نے کہا پالیسی بیورو کریسی نے نہیں حکومت نے دینی ہوتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ پی آئی اے کی نجکاری کا ارادہ ہے۔ شگفتہ جمانی نے کہا منشا گروپ کی مدد کےلئے ایم ڈی لائے گئے ہیں، ایس اقبال قادری نے کہا پارلیمنٹیرین ڈیسک ذلیل کرنے کےلئے لگایا گیا ہے اسے ہٹایا جائے۔ وزیر پارلمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کمیٹی میں کی جانے والی باتیں حقیقت پر مبنی ہیں، سیکرٹری ایوی ایشن اور ایم ڈی کی موجودگی کے باوجود معاملات درست نہیں چل رہے، انتظامیہ سے کہا ہے وہ ہمیں پالیسی بنا کر دے، جہاز کم اور پائلٹ زیادہ ہیں، پارلیمنٹیرینز تو الگ بات یہاں تو وزراءتک کو بھی کالوں کا جواب نہیں دیا جاتا، بیورو کریسی حکومت کےلئے مسائل پیدا نہ کرے۔ عمران ظفر لغاری نے انکشاف کیا حکومت تو نہیں بتا رہی مگر ایم ڈی پی آئی اے 45 لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں، سیکرٹری ایوی ایشن نے کمیٹی کو بتایا اس وقت 26 جہاز فلائی کر رہے ہیں، 40 سے 45 جہازوں پر آپریشن منافع بخش ہو سکتا ہے، پی آئی اے کا ریونیو 9 سے 10 ارب روپے ہے جبکہ اس سے 3.29ارب روپے سود اور اصل رقم کی صورت میں ادا کرنا پڑتے ہیں، پی آئی اے پر 288 ارب روپے کا لوڈ ہے، کمیٹی نے مزید غور کےلئے اجلاس 29 جنوری کو دوبارہ طلب کر لیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا پی آئی اے کے جہاز میں کسی بھی قسم کی ویڈیو بنانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ رکن اسمبلی رمیش کمار نے استحقاق کمیٹی میں بیان دیا ان کی وجہ سے فلائٹ تاخیر کا شکار ہوئی، نہ انہیں جہاز کے لیٹ ہونیکی اطلاع دی گئی تھی پھر بھی ان سے مسافروں نے بدتمیزی کی۔ چیئرمین کمیٹی نے پی آئی اے کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ استحقاق کمیٹی کو پیش کرنیکی ہدایت کی۔ استحقاق کمیٹی میں عمران خان کی شادی کے چرچے کئے گئے، سیکرٹری ایوی ایشن محمد علی گردیزی نے ڈاکٹر رمیش کمار کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ پر ہونیوالی مبینہ بدسلوکی کا ذمہ دار پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنے دینے والوں کو قرار دیا تو پیپلزپارٹی کی خاتون رکن شگفتہ جمانی نے کہا کنٹینر والے ایکسپوز ہوگئے جس مقصد کےلئے دھرنا دیا تھا وہ پورا ہوگیا، ایک رکن نے لقمہ دیتے ہوئے کہا اب تو عمران خان کی شادی ہوگئی ہے، معاملے کو چھوڑ دیں جس کا برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا شادی تو ان کا ذاتی معاملہ ہے، روایات جو ڈالی گئی ہیں وہ قوم بھگتے گی۔

پی آئی اے