تحفظ ایچ آئی وی ایڈز بل، قائمہ کمیٹی نے تحفظات دور کرنے کیلئے موخر کردیا

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی طرف سے منظوری کےلئے پیش کیے گئے تحفظ ایچ آئی وی ایڈز بل 2013ءپر وزارت قومی صحت، قانون و انصاف اور مذہبی امور سے تجاویز لینے اور تحفظات دور کرنے کےلئے آئندہ اجلاس تک موخر کردیا، یہ بل 2013ءمیں قومی اسمبلی میں پیش ہوا جسے سپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا، تحفظ ایڈز بل کا دائرہ اختیار صرف وفاقی دارالحکومت کےلئے تھا باقی ملک کےلئے نہیں تھا، کمیٹی کو وزیر مملکت قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے بتایا تحفظ ایچ آئی وی ایڈز بل 2013ءمیں ان تمام بیماریوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو انتقال خون سے منسلک ہیں جس میں تھیلیسیمیا سمیت دیگر موذی امراض شامل ہیں، ایڈز کے بل کو پاس کردیتے ہیں تو پھر ملک بھر میں مذہبی حلقوں کی طرف سے اعتراضات آئیں گے، اس پر واویلا شروع ہوجائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی حکومت ملک میں ایڈز کے موذی مرض کے پھیلاﺅ کو روکنے کےلئے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے تمام سب کمیٹیوں کو جنہوں نے اپنی سفارشات جمع کرا دی ہیں کمیٹی کے متعلقہ فیصلہ کے بعد ختم کردیا۔ سائرہ افضل تارڑ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہم نہیں چاہتے ملکی حالات خراب ہوں، پہلے ہی ملک اس وقت انتہائی صورتحال سے گزر رہا ہے لہٰذا علماءکرام سے مشاورت کرکے بل پیش کیا جائے۔ رکن کمیٹی عبدالقہار خان نے کہا پی ایم ڈی سی سب کمیٹی کی سفارشات پر بیوروکریسی نے کیا حشر کیا ہے، اس پر وزارت نے کوئی اقدام نہیں کیا، اس دوران وزیر مملکت اور عبدالقہار خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا کہ ہمارا منہ نہ کھلوائیں، جس پر وزیر مملکت نے کہا یہ کہنا غلط ہے ہمارا منہ نہ کھلوائیں، آپ اپنا منہ کھولیں، بولیں ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی برائے صحت کو بتایا گیا 2013ءکے اختتام پر ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ایڈز یا ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ وفاقی سیکرٹری برائے قومی صحت ایوب شیخ نے کہا کہ ٹی بی ویکسیئن کا سٹاک ہماری ملکی ضروریات کے مطابق موجود ہے۔ ویکسیئن کے سٹاک کی کمی کے حوالے سے شائع ہونیوالی خبریں بے بنیاد ہیں۔

قائمہ کمیٹی