بلوچستان میں 16 سال تک کی عمر کے 60 فیصد بچے سکول نہیں جاتے: انکشاف

اسلام آباد (جاوید صدیق) بلوچستان میں وزیراعلیٰ کے پالیسی ریفارم یونٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں 6 سے 16 سال کی عمر کے بچوں میں سے 60 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔ بلوچستان ڈویلپمنٹ فورم میں صوبے کی تعلیم سے متعلق پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے جہاں 10 فیصد بچے سکول جاتے ہیں‘ لسبیلہ میں 32 فیصد‘ بولان میں 43 فیصد‘ متخیل میں 47 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔ کوئٹہ میں صورتحال بہتر ہے جہاں 90 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔ دستاویز کے مطابق پنجگور‘ لورالائی‘ پشین کچھ اور گوادر میں 80 سے 90 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔ دستاویز کے مطابق بلوچستان میں 85 فیصد بچے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کوئٹہ‘ لورالائی میں 60 فیصد سے کم بچے سرکاری سکولوں میں جاتے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ضلع مشیران میں 40 فیصد‘ خضدار میں 30 فیصد‘ زیارت میں 29 فیصد‘ ژوب میں 26 فیصد‘ قلات میں 22 فیصد بچے دینی مدارس میں پڑھ رہے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے سکولوں میں سے ایک چوتھائی سکول چھت کے بغیر ہیں جبکہ نصف سکولوں کے پاس ایک یا دو کمرے ہیں۔ بلوچستان کے سکولوں میں اساتذہ کی اوسطاً تعداد 4 ہے۔ سکول جانے والے بچوں کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ پانچویں جماعت کے بچوں میں سے صرف 2 فیصد اردو پڑھ سکتے ہیں۔