ایران گیس منصوبہ : عالمی پابندیوں کو رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے پیشرفت کرنی چاہیے : قائمہ کمیٹی پٹرولیم

ایران گیس منصوبہ : عالمی پابندیوں کو رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے پیشرفت کرنی چاہیے : قائمہ کمیٹی پٹرولیم

اسلام آباد (آئی این پی+ آن لائن) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو قائم مقام سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا نے بتایاہے ملک میں فرنس آئل کا ضرورت کے مطابق ذخیرہ موجود ہے، لہٰذا بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھنے کا کوئی امکان نہیں، وزیر مملکت جام کمال خان نے کہا ہمیں تو پٹرول کے چھوٹے سے بحران نے مفلوج کر کے رکھ دیا۔ عالمی پابندیوں کی موجودگی میں ایران سے گیس خریدیں گے تو پاکستان پر بھی پابندیاں لگ جائیں گی اور پاکستان کو اس صورت میں پٹرول کے حالیہ بحران سے بڑھ کر سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، گیس کی قلت پر قابو پانے کےلئے چین سے ایل این جی درآمد کرنے پر بات ہو رہی ہے جبکہ قطر سے ایل این جی پر مذاکرات کےلئے وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی وہاں موجود ہیں، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پٹرول پمپوں پر قطاریں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، ایران پاکستان کے خلاف گیس پائپ لائن معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت لے کر عالمی عدالت میں نہیں جا رہا، قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل میں سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کے حکام نے گیس فراہمی کی جاری سکیموں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ارشد مرزا نے کہا ایسے علاقے جہاں سے گیس نکل رہی ہے وہاں پر پانچ کلو میٹر کے دائرے میں موجود آبادیوں کو گیس کی فراہمی کے بارے میں حکومت سے فنڈز مانگ رکھے ہیں اور سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی ہے۔ ایم ڈی سوئی سدرن نے کہا سندھ میں منجھورو بلاک کے جو گاﺅں پانچ کلو میٹر کے دائرے میں آتے تھے انہیں گیس فراہم کر دی گئی ہے جبکہ بعض مقامی لوگ مزید چند گاﺅں کو گیس فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو پانچ کلو میٹر کے دائرے سے باہر ہیں۔ ا س پر قائمہ کمیٹی نے انہیں ہدایت کی علاقے کے سینیٹر مختار احمد عاجز دھامرہ سے رابطہ کر کے معاملے کو حل کریں۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان نے کہا قطر میں مذاکرات سیف الرحمان سے تو نہیں ہو رہے۔ چیئرمین محمد یوسف بلوچ نے کہا ایک مقامی اخبار کی خبر کے مطابق سٹیٹ بینک نے کہا ہے ایران پاکستان گیس پائپ لائن مہنگا سودا ہے جبکہ ایل این جی کی درآمد اس سے بھی مہنگی پڑے گی۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہا سٹیٹ بینک کو ایسی رپورٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ سینٹر محمد یوسف بلوچ نے کہا ایران تو خود ترکمانستان سے گیس خرید رہا ہے ہمیں بھی وہیں سے خریدنی چاہیے۔ مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر حمزہ نے کہا یہ خبریں سننے میں آ رہی ہیں معاہدے پر عدم عملدرآمد کی وجہ سے ایرانی حکومت نے 3کروڑ ڈالر یومیہ جرمانہ وصول کرنے کےلئے عالمی عدالت میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہا ایرانی سفارتخانے سے رابطہ کرکے معلوم کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پٹرول کا جاری بحران ختم ہو چکا ہے اور پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی لائنیں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں جبکہ فرنس آئل کا ضرورت کے مطابق ذخیرہ موجود ہے، لہٰذا بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں بڑھے گی۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن بارے سوال پر وزیر مملکت برائے پٹرولیم جام کمال خان نے کہا کہ ایران پر اس وقت عالمی پابندیاں عائد ہیں اگر ایران سے گیس خریدیں گے تو پاکستان بھی پابندیوں کی زد میں آئے گا جبکہ اس کے نتیجے میں پاکستان ایک بڑے بحران کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ ہمیں تو پٹرول کے حالیہ چھوٹے سے بحران نے مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اس پر سینیٹر جہانگیر بدر کا کہنا تھا کہ ہمیں عالمی پابندیوں کے مفروضے کو رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے۔ قائمہ کمیٹی نے کہا منصوبے پر پیش رفت کرنی چاہئے۔

قائمہ کمیٹی/ پٹرولیم