حکیم اللہ اصل ہے یا اس کا بھائی امیر بن گیا‘ تحقیقات کررہے ہیں: رحمن ملک

اسلام آباد (ریڈیو نیوز+ آن لائن+ ثناءنیوز) وزیر داخلہ رحمن ملک نے واضح کیا ہے کہ حکیم اللہ محسود لیڈر نہیں شدت پسند ہے اس کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں کہ وہ اصل حکیم اللہ ہے یا اس کا بھائی افغانستان سے آکر حکیم اللہ بن بیٹھا ہے۔ درجنوں لاپتہ افراد کا سراغ لگا لیا ہے جبکہ زیادہ تر لاپتہ نوجوان بلوچستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کررے ہیں۔ وہ وزارت داخلہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے بارے میں ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ گذشتہ روز انہوں نے وزیراعظم گیلانی سے بھی ملاقات کی جبکہ وزیراعظم سے آسٹریلیا کیلئے نامزد ہائی کمشنر مسز فوزیہ نسرین اور ازبکستان کیلئے نامزد سفیر محمد وحید الحسن بھی ملے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ رمضان المبارک میں چاروں صوبوں میں سکیورٹی کے م¶ثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو کرپشن سے پاک بنانے کے عمل کو جمہوری حکومت یقینی بنائے گی جبکہ اینٹی کرپشن کے تمام ادارے بھی اس حوالے سے اپنا موثر کردار ادا کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش ریاست کی ذمہ داری ہے اور ہم منصفانہ طریقے سے ان کو تلاش کررہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کا حکومت سے رابطہ کرنے کیلئے وزارت داخلہ میں الگ شعبہ قائم کردیا گیا ہے‘ طالبان ہمارے لوگوں کو مار رہے ہیں ان میں سے کسی کو لیڈر نہ کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تنظیم کی طرف سے 6 ہزار لاپتہ افراد کی فہرست فراہم کی گئی تھی جبکہ سپریم کورٹ سے 4 ہزار 16 افراد کے بارے میں ہدایات ملی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹس کے مطابق لاپتہ افراد کی فہرست میں 2390 لوگ شامل ہیں اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے نادرا اور پاسپورٹس آفس کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے جبکہ ایف آئی اے اور آئی ایس آئی کی مشترکہ ٹیم تشکیل دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور ملک سے دہشت گردی ختم ہورہی ہے۔ رحمن ملک نے وزیراعظم کو امن و امان کی مجموعی صورتحال‘ سٹیل ملز میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سمیت سرکاری اداروں سے کرپشن کے خاتمے کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔