سینٹ : وزراءکی غیر حاضری‘ مضر صحت اشیاءکی فروخت کیخلاف ارکان کا احتجاج

اسلام آباد (خبر نگار + نیوز ایجنسیاں) سینٹ کے اجلاس میں ارکان نے وزرا کی غیر حاضری پر اور ملک میں مضر صحت اشیا کی فروخت پر شدید احتجاج کیا ہے۔ چیئرمین سینٹ نے سیکرٹری سینٹ کو ہدایت کی کہ اجلاس میں وزرا کی عدم شرکت اور دلچسپی نہ لینے کے حوالے سے وزیراعظم کو تحریری شکایت کی جائے۔ ارکان نے مضر صحت اشیا کی فروخت پر شدید احتجاج کیا۔ ارکان نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور سیاستدانوں کے باعث سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تحقیقات کے لئے کمشن بنایا جائے۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی نے جعلی اور مضر صحت اشیا کی فروخت روکنے کے لئے کوئی موثر قانون نہ ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو پکڑتے ہیں مگر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے جس کے بعد چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے اس معاملہ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کرتے ہوئے 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سینیٹر محمد علی درانی نے کہا کہ کئی اشیا ایکسپائر ڈیٹ کے بعد بھی فروخت ہو رہی ہوتی ہیں‘ معاملہ بہت اہم ہے۔ محمد علی درانی نے کہا کہ متاثرین کی بحالی سیلاب سے بڑی آزمائش ہے‘ بحالی کا کام فوج کے سپرد کیا جائے‘ وطن کارڈ کے اجرا میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے۔ وطن کارڈ کے اجرا میں امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ سیلاب کا رخ موڑنے کے لئے تکنیکی لحاظ سے درست مقامات پر کٹ لگائے جاتے تو نقصانات 80 فیصد کم ہوتے‘ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے‘ حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ نقصانات کا اندازہ لگانے کے لئے کمشن قائم کیا جائے۔ انہوں نے سیلاب کی مشکلات اور تباہ کاریوں کے حوالے سے تحریک التوا پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔ منگل کو ایجنڈے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے مالی سال 2008-09ءکے لئے وفاقی حسابات اور سال 2009-10ءکی آڈٹ رپورٹ سینٹ میں پیش کی تاہم ایوان بالا میں وزیر خزانہ سمیت دیگر وفاقی وزرا کی عدم موجودگی کے باعث قائد ایوان سید نیئر حسین بخاری نے مذکورہ رپورٹ ایوان میں پیش کی جس پر چیئر مین سینٹ نے ایوان سے وزرا کی عدم موجودگی پر رائے لی اور پورے ایوان نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور متفقہ طور پر کہا کہ وزیر اعظم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ علاوہ ازیں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ گذشتہ مالی سال کے دوران حفظان صحت کے منافی اور غیر اندراج شدہ مصنوعات تیار کر نے والی 7 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی ہے‘ غیر معیاری اشیاءکی تیاری اور اس کی فروخت کی روک تھام کے لئے مناسب قانون نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ جس چور کو پکڑتے ہیں وہ عدالتوں میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں سے بچ جاتا ہے۔ اگر یوٹیلٹی سٹورز پر پینے کا پانی غیر معیاری فروخت ہو رہا ہے تو اس معاملہ کو کابینہ کے اجلاس میں کیوں نہ اٹھایا گیا۔ متعلقہ وزیر کو کیوں برطرف نہیں کیا گیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ کنزیومر کورٹس ہونی چاہئیں جو صارفین کے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔