ہر دس سال بعد مردم شماری کرانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے: قائمہ کمیٹی

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر دس برس بعد ملک میں مردم شماری کرانا حکومت کی  آئینی ذمہ داری ہے‘ حکومت آئینی تقاضے پورے کرنے کیلئے چاروں صوبوں سمیت وفاق میں مردم شماری کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے،  حکومت نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں مردم شماری پر صوبوں میں اختلافات کے باعث آئینی تقاضا چھ برس سے تاخیر کا شکار ہے تاہم مشترکہ مفاداتی کونسل کے آئندہ اجلاس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں میں مردم شماری کرانے کا فیصلہ کر لیا جائے گا‘ کمیٹی نے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کونسل سندھ کے 1750 ملازمین کو دو برسوں سے تنخواہیں نہ ملنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ وزارت اس معاملے کو فوری طور پر حل کرے جبکہ وزارت نے مالی سال 2014-15ء کے 85 کروڑ 61 لاکھ روپے کے ترقیاتی بجٹ کی تجاویز منظوری کیلئے کمیٹی کو پیش کر دیں۔ جمعہ کو قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس عبدالرحیم مندوخیل کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی‘ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ اور سیکرٹری وزارت محمد اعجاز چوہدری سمیت وزارت کے اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت اعجاز چوہدری نے کمیٹی کو وزارت اور اس سے منسلک امور کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر تمام خودمختار ریگولیٹری ادارے وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ماتحت ہونے چاہئیں لیکن بعض وزارتوں کی مداخلت کی وجہ سے نیپرا‘ پیمرا‘ ریلوے‘ اوگرا‘ واپڈا و دیگر ادارے مختلف وزارتوں میں شامل ہیں جس پر وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ کی ہدایات پر اس مسئلے کو اٹھانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وزارت کے امور میں اضافہ ہوا ہے اور اب پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کونسل‘ پاکستان سپورٹس بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ سمیت دیگر 9 ادارے وزارت کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ اب بھی مشترکہ مفادات کونسل کے ایجنڈے میں موجود ہے تاہم جب تک وزارت پانی و بجلی اس ڈیم کی تعمیر پر چاروں صوبوں میں اتفاق رائے پیدا نہیں کرے گی تب تک یہ معاملہ التواء کا شکار رہے گا۔