فیصلہ فوج کو کرنا چاہئے کس سے کیا بات کرنی ہے: میجر (ر) عامر

فیصلہ فوج کو کرنا چاہئے کس سے کیا بات کرنی ہے: میجر (ر) عامر

اسلام آباد (ثناء نیوز) حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی جانے والی پہلی کمیٹی کے رکن میجر (ر) عامر کا کہنا ہے کہ وہ کمیٹی اب تحلیل کر دی گئی ہے کیونکہ میڈیا پر مسلسل موجودگی کی وجہ سے اس کا آگے چلنا مشکل ہوگیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے   بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ سابق کمیٹی کے قیام کے وقت وزیراعظم سے کہا تھا کہ انہیں دو باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ایک زبان بندی اور دوسرا کمیٹی اور اس کے دائرہ اختیار میں تبدیلی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی کمیٹی مشکل مسائل پر حکومت اور طالبان کے درمیان مشترکہ زمین تیار کرنے میں مدد دے سکتی تھی لیکن ہر بات میڈیا میں آنے کے بعد اس کا چلنا ممکن نہیں رہا۔ آگے چل کر انتہائی حساس معاملات پر بات ہونی تھی تو اب ہر بات تو میڈیا پر نہیں کی جاسکتی۔ میجر عامر کے بارے میں اب کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے نئی کمیٹی کے لیے بھی ایک فارمولا تجویز کیا ہے۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آپ اسے جو بھی کہیں لیکن میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ اس معاملے میں اب اصل بات فوج کی ہے۔ وہ لڑ بھی رہی ہے اور متاثر بھی ہے۔ وہ مکمل طور پر آن بورڈ ہو۔ انہیں ڈرائیونگ سیٹ میں بٹھا دیں کہ وہ فیصلہ کریں کہ کس نے بات کرنی ہے اور کیا بات کرنی ہے۔ وہ متاثر بھی ہیں اور موثر بھی ہیں۔ یہ میں صرف بہتر نتائج کی خاطر کہہ رہا ہوں۔ میجر عامر نے کہا کہ انہوں نے نئی کمیٹی سے کہا ہے کہ انہوں نے میڈیا سے دور رہنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔ تاہم وہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی سابق کمیٹی پر کڑی تنقید سے خوش نظر نہیں آئے۔ اس سوال پر کہ ماضی میں شدت پسندوں کے ساتھ معاہدوں سے اس مرتبہ مختلف کیا ہے، میجر محمد عامر نے کہا کہ ماضی کے افراد کے ساتھ معاہدوں کی بجائے اس مرتبہ حکومت کا معاہدہ ایک تنظیم سے ہوگا اور دوسرا یہ کہ اس مرتبہ جنگ بندی ہوئی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھنے کو ملی۔ اس وجہ سے میں اس موجودہ سلسلے کو امتیازی سمجھتا ہوں۔ مذاکراتی عمل کے مخالفین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب احرار الہند ہے تو دوسری جانب انصار الہند ہے۔ خود حکمران جماعت کی پارلیمانی کمیٹی مذاکرات کے خلاف تھی، کابینہ میں واحد چوہدری نثار حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل جماعتی کانفرنس میں مذاکرات کے فیصلے کے بعد تنقید نہیں ہونی چاہیے تھی اور سیاسی نمبر نہیں بنانے چاہیے تھے۔