اپوزیشن کی تنقید‘ بھگوان داس چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ قبول نہیں کرینگے

اپوزیشن کی تنقید‘ بھگوان داس چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ قبول نہیں کرینگے

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنانے کی تجویز کو ابھی تک ڈراپ نہیں کیا تاہم اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ اگر سینٹ سے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ایکٹ (ترمیمی بل) 2014ء منظور بھی ہوگیا تو شاید جسٹس (ر) رانا بھگوان داس اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کردیں گے کیونکہ پہلے ہی انہیں بڑی مشکل سے اس اہم ذمہ داری کیلئے آمادہ کیا گیا تھا۔ جسٹس رانا بھگوان داس امریکہ میں اپنے صاحبزادے کے پاس چلے گئے ہیں‘ ان سے حکومت اور اپوزیشن کا کوئی رابطہ نہیں۔ رانا بھگوان داس نے چیئرمین نیب بننے سے انکار کردیا تھا جبکہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے منصب کیلئے بمشکل راضی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق سینٹ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن ایکٹ 2014ء پر کی جانیوالی بحث کے دوران اپوزیشن کے بعض ارکان کی تنقید کے بعد جسٹس (ر) رانا بھگوان داس اس عہدے کو قبول نہیں کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سینیٹ میں قانون سازی کے عمل کے منتظر ہیں، وہ ابھی تک سینٹ سے بل منظور نہ کرا سکنے کو اپنی شکست تصور کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل پبلک سروس کمیشن ایکٹ (ترمیمی بل) 2014ء سینیٹ میں زیر التواء کرانے میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حاجی عدیل نے کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ اس بات کے خواہاں تھے ہر اہم عہدے پر پنجاب اور سندھ سے شخصیات کا انتخاب نہ کیا جائے بلکہ اس کی جگہ خیبر پختونخوا سے انتخاب کیا جائے۔ جب سید خورشید شاہ سے جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنائے جانے کی دوڑ سے ڈراپ کرنے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کو ڈراپ کیا گیا اور نہ ہی حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے کوئی نیا نام دیا گیا ہے۔ ہم رانا بھگوان داس کے ردعمل اور سینیٹ میں بل کے مستقبل کا انتظار کر رہے ہیں۔