پشاور میں بدترین دہشت گردی کی کڑیاں مل رہی ہیں، تحقیقات کا دائرہ پھیلا دیا گیا

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) پشاور میں دہشت گردی کی بدترین واردات کی کڑیاں ملتی جا رہی ہیں جن کی روشنی میں تحقیقات اور چھان بین کا دائرہ ملک کے طول و عرض تک پھیلا دیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب، جنوبی خیبر پی کے، قبائلی اور افغانستان کے سرحدی علاقوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ایک مستند ذریعہ کے مطاق سانحہ پشاور کے بعد سرعت سے کی گئی فوجی اور انٹیلی جنس کارروائی نے دہشت گردوں کو سراسیمہ کردیا ہے اور انٹیلی جنس اداروں نے دہشت گرد گروپوںکے درمیان ہونے والی مزید بات چیت بھی پکڑی ہے جس سے علم ہوتا ہے دہشت گرد نہ صرف پریشان ہیں بلکہ سراسیمگی کی حالت میں مزید کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور آسان اہداف تلاش کئے جا رہے ہیں۔ پکڑی گئی بات چیت میں سرحد پار رابطوں کیلئے سیٹلائٹ فون استعمال کئے گئے اور اندرون ملک روابط کیلئے پاکستانی موبائل فون کمپنیوں کی سِمیں استعمال کی گئی ہیں۔ ایک ذریعہ کے مطابق بعض موبائل فون کمپنیوں کے ملازمین کی چھان بین کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے جس کا جلد آغاز کیا جائیگا۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق مارے جانے والے سب دہشت گرد اور منصوبہ ساز پاکستانی ہیں لیکن اس واردات کے پیچھے کسی ملک کے ملوث ہونے کو قطعی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا کیونکہ سانحہ پشاور کے پاکستان کی ملی زندگی پر اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کا فائدہ کسی گروہ کے بجائے ملک کو بھی ہوسکتا ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد صورتحال کا تجزیہ کرنے پر مامور حکام کی رائے ہے۔ سانحہ پشاور کا ذمہ دار گروہ اس واردات کے بعد تنہا ہوتا جا رہا ہے اور ٹی ٹی پی کے سابق دھڑوں کے علاوہ القاعدہ نے بھی سفاکانہ واردات کی مذمت کر دی ہے۔
دہشت گردی/ کڑیاں