سپریم کورٹ 18ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ آج سنائے گی

اسلام آباد (خبر نگار) سپریم کورٹ 18ویں آئینی ترمیم کے خلاف آئینی درخواستوں کا فیصلہ آج سنائے گی‘ سپریم کورٹ نے 24 مئی کو سماعت شروع کی جو چار ماہ سے زائد عرصہ جاری رہی سترہ رکنی لارجر بنچ نے تیس ستمبر کو فیصلہ محفوظ کر دیا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم اس بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس ناصرالملک، جسٹس راجہ فیاض احمد، جسٹس محمد سائر علی، جسٹس ایم اے شاہد صدیقی، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس رحمت حسین جعفری، جسٹس طارق پرویز، جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے شامل تھے۔ فیصلے کیلئے تمام متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جی این آئی کے مطابق مقدمے میں اہم ترین نقطہ جس کا فیصلہ ہونا ہے سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کی متفقہ طور پر کی گئیں ترامیم کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ 18ویں ترمیم کی مختلف شقوں کے خلاف پچیس سے زائد درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن میں ججوں کے تقرری‘ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی‘ اقلیتوں اور خواتین کے الیکشن کے بجائے نامزدگی جیسی اہم ترامیم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 18ویں ترمیم کیس کے فیصلے کے موقع پر سکیورٹی کے لئے خصوصی ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے۔ عمارت کے اندر خصوصی سکیورٹی کیمرے نصب کئے جائیں گے اور داخلہ صرف پاسز پر ہو گا۔ آن لائن کے مطابق فیصلہ صبح ساڑھے 9 بجے سنایا جائے گا۔