سینٹ : امن مشقوں پر بحریہ کیلئے خراج تحسین کی قارداد‘ سمگلنگ کیخلاف ردالفساد طرز کے آپریشن کا مطالبہ

سینٹ : امن مشقوں پر بحریہ کیلئے خراج تحسین کی قارداد‘ سمگلنگ کیخلاف ردالفساد طرز کے آپریشن کا مطالبہ

اسلام آباد ( نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں) چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے اقلیتوں کے حلف کے حوالے سے قانون میں ترمیم کا بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ سینیٹر اعظم خان سواتی نے تحریک پیش کی آرٹیکل 255 میں ترمیم درکار ہے۔ حکومت نے تحریک کی مخالفت نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر ظہیر الدین بابر اعوان کے دو بل ایوان میں موجود نہ ہونے پر ڈراپ کردیئے گئے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر عتیق شیخ نے بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کا بل 2017ءواپس لے لیا۔ انہوں نے معاملہ اسمبلی میں زیر غور ہونے کی وجہ سے بل واپس لیا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے سینیٹر محمد اعظم خان سواتی نے پولیس آرڈر 2002ءمیں مزید ترمیم کا بل واپس لے لیا۔ ایوان بالا نے سینیٹر طلحہ محمود اور تنویر خان کی دو الگ الگ قراردادوں کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ سینیٹر طلحہ محمود نے قرارداد پیش کی یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں ورکنگ آورز فیس اور دیگر چارجز کو منضبط کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان نے قرارداد پیش کی یہ ایوان پاکستان نیوی کو 37 ممالک کے اشتراک سے سب سے بڑی بین الاقوامی بحری امن مشقوں کے کامیاب انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ حکومت نے قراردادوں کی مخالفت نہیں کی۔ ایوان بالا میں سینیٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں سمگلنگ کی روک تھا م کیلئے ردالفساد کی طرز پر آپریشن شروع کیا جائے، سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ہمیں سمگلنگ کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔ سمگلنگ سے ملکی معیشت اور عوام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، پاکستان کو صرف سمگلنگ کی وجہ سے تین ارب ڈالر کا نقصان ٹیکسوں کی مدمیں ہوتا ہے،سمگلنگ سے مقامی صنعت کو بے تحاشا نقصان ہو رہا ہے۔ بھارت سے بھی چار بلین ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات سمگل ہو رہی ہیں کے خلاف بھی آپریشن ہونا چاہیے۔ ملک میں جتنی سمگلنگ ہو رہی ہے وہ ملی بھگت سے ہو رہی ہے، حکومت کے پاس سمگلنگ پر قابو پانے کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ سینیٹر محسن عزیز نے تحریک پیش کی کہ الیکٹرانکس ٹیکسٹائل ،مصنوعات اور دیگر سامان کی سمگلنگ اور باڑہ مارکیٹوں میں ان کی فروخت سے مقامی صنعت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہا ہے کہ حکومت سمگلنگ کی روک تھام کے لئے کئی اقدامات کر رہی ہے‘ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے ٹریکنگ سسٹم لگایا گیا ہے‘ حکومت نے انسداد سمگلنگ حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ تمام ادارے بہتر طریقے سے سمگلنگ کے انسداد کے لئے کام کر سکیں۔ اس سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے سمگلنگ کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سمگلنگ سے ملکی معیشت اور عوام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سمگلنگ کا تدارک اس لئے نہیں ہو رہا کہ تمام حکومتیں کسی نہ کسی حد تک اس لعنت میں شامل رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں تمام متعلقہ وزارتوں کے نمائندے شامل ہوں اور وہ کمیٹی اس کے خاتمے کے حوالے سے رپورٹ تیار کرکے ایوان میں پیش کرے۔ بعدازاں ایوان بالا کا اجلاس (آج) منگل کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
سینٹ/قرارداد