فاٹا کو خیبر پی کے میں ضم کرنے کی مخالفت، ملک میں فوری چھوٹے صوبے بنائے جائیں: بابا حیدر زمان

اسلام آباد( وقائع نگار خصوصی) تحریک صوبہ ہزارہ نے فاٹا کے صوبہ کے پی کے میں انضمام کی مخالفت کر دی ہے اور مطالبہ کےا ہے کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے، پاکستان میںفوری طور پر انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبہ بنائے جائیں۔ روشن اور مضبوط پاکستان کے لیے چھوٹے صوبے بنانا ضروری ہے۔ ےہ بات تحریک صوبہ ہزارہ کے چیئرمین بابا سردار حیدر زمان، تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی داور کنڈی، ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی، سابق وفاقی وزیر اور فاٹا گرینڈ الائنس کے سربراہ حمید اﷲ جان آفریدی و دیگر رہنماﺅں نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بابا حیدر زمان نے کہا کہ 12 اپریل کو ایبٹ آباد یوم شہداءکے حوالے سے جلسہ کریں گے اور پریس کانفرنس میں شریک تمام لوگ مل کر نئے صوبے بنانے کے لیے ملک گیر مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں ضم کرنے کا مطلب فاٹا کے عوام کو پہلے سے دس گنا زیادہ غلامی میں دینا ہے۔ حکومت صوبے بنانے کی بجائے ضلعوں پر ضلعے بنا رہی ہے حکمران وہ کام کرتے ہیں جس سے ان کو فائدہ ہو نواز شریف نے عوامی نمائندوں کی زبانیں کاٹ کر اپنے جیب میں رکھ لیں اگر عوام کو غلام بنائیں گے تو بغاوت ہوگی۔ تحریک انصاف کے ڈی آئی خان سے ممبر قومی اسمبلی داور کنڈی نے کہا چھوٹے صوبہ بنانے سے ملک مضبوط ہوگا عوام نے مجھے سرائیگی صوبہ بنانے کے لیے ووٹ دیا، کے پی کے دو ضلعوں اور پنجاب کے بارہ ضلعوں کو ملا کر صوبہ بنایا جائے فاٹا اصلاحات میں بہت زیادہ تضادات ہیں حکمران نیا مسئلہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں انتظامی یونٹ کے چھوٹے ہونے سے گڈ گورننس بہتر ہوگی فاٹا کو صوبہ کئے پی کے میں ضم کرنے کی بجائے نیاصوبہ بنایا جائے۔ عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی جمشیددستی نے کہا کہ ہمارا پلیٹ فارم نئے صوبوں کی تحریکوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جنوبی پنجاب کے تمام فنڈز لاہور پر لگ رہے ہیں۔ سرائیکی عوام کو دہشت گرد کہہ کر ملک کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ نواز شریف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور دہشت گردی ختم کرنے میں مخلص نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن فاٹا کو صوبہ بنانے پر ڈبل گیم کررہے ہیں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے صوبوں کے معاملے پر ہمیشہ منافقت کی، فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔ فاٹا گرینڈ الائنس کے سربراہ حمید اﷲ جان آفریدی نے کہا کہ فاٹا کے معاملے پر سیاسی و مذہبی جماعتیںمنافقت کررہی ہیں۔ قبائل سکھوں اور انگریزوں کے لیے باغی تھے پاکستان کے لیے نہیں ہیں بھارت میں 29 صوبے بن سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ کے پی کے ایک کمزور صوبہ ہے وہ فاٹا کے فنڈ خود کھا جائے گا اس لیے ضروری ہے کہ علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔
بابا حیدر زمان