انتہاپسندانہ طرز زندگی کی گنجائش اسلامی تعلیمات میں ہے نہ آئین اسکی اجازت دیتاہے : صدر ممنون

اسلام آباد (این این آئی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری کو کامیاب بنانے کےلئے خطے کے ممالک کے درمیان آسان رابطوں کےلئے نئے لسانی تجربات کی ضرورت ہو گی جن کےلئے اردو زبان بہترین بنیاد فراہم کرتی ہے، اس سلسلے میں پاکستانی ماہرین لسانیات اور نمل یونیورسٹی اپنا کردار ادا کرے۔ یہ بات انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجزکے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئی کہی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی فعالیت کے بعد پاکستان میں غیر ملکی تاجروں، صنعت کاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کی بڑی تعداد میں آمدورفت کا سلسلہ شروع ہو تو زبان کے مسائل باہمی رابطے میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایوانِ صدر کے اخراجات میں کمی کر کے نمل کو ایک معقول رقم بطور عطیہ پیش کی تھی تاکہ گوادر میں اس جامعہ کا کیمپس قائم کر کے وہاں کے نوجوانوں کو چینی زبان سکھائی جا سکے۔ صدر مملکت نے طلباءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندانہ طرز عمل کی گنجائش نہ اسلامی تعلیمات میں ہے اور نہ پاکستان کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے، دین برحق اور وطن عزیز کے دستور کی رو سے اعتدال کی راہ چھوڑ نے والے مکمل طور پرگمراہ اور ناقابل معافی ہیں، ریاست اور ریاستی ادارے ان کی ناپسندیدہ سرگرمیوں اور ان کے ذمہ داروں کے سدباب کےلئے بھرپورکردار ادا کررہے ہیں لیکن ملک کے پڑھے لکھے طبقات، خاص طور پر نوجوانوں کی یہ پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ گمراہی پر مبنی بیانئے کی تردید اور راست فکری پر مبنی جوابی بیانئے کے فروغ کےلئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج پاکستان چین کے اقتصادی راہداری کی صورت میں علاقائی مواصلاتی رابطوں کے جس انقلاب کی توقع کر رہے ہیں، اسے یقینی بنانے کےلئے بھی دہشت گردی اورانتہا پسندی سے نمٹنا ناگزیر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے بچے اس سلسلے میں قوم کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نمل چین اور وسط ایشیا سے لے کر مشرقی یورپ تک کی جامعات کےساتھ اپنے تعاون کا سلسلہ بڑھائے تاکہ ان ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر باہمی رابطوں میں آسانی پیدا کی جا سکے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے کامیاب طلبا میں اسناد بھی تقسیم کیں۔
صدر ممنون