3 آبی منصوبوں کا دورہ کرایا جائے پاکستان حالات سازگار نہیں بھارت

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ خبرنگار خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) پاک بھارت انڈس واٹر کمیشن کے پہلے روز کے مذاکرات ختم ہو گئے۔ پاکستان نے بھارت کے 3 متنازعہ آبی منصوبوں کے ڈیزائنر پر اعتراضات اٹھائے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وفد نے یقین دہانی کرائی کہ تینوں منصوبوں پر پاکستان کے اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ پکل‘ لوئر کلنائی اور میار پاور منصوبوں کے مقامات کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتی وفد نے جواب دیا کہ منصوبوں کے مقامات کے دوروں کیلئے حالات سازگار نہیں ہیں۔ بھارتی کمیشن نے فلڈ ڈیٹا پر اضافی معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ پاک بھارت انڈس واٹر کمشنرز کے 2 روزہ مذاکرات کا دوسرا دور آج ہو گا۔ قبل ازیں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت سے سندھ طاس کمشن کی سطح پر ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں پکل دل‘ لوئر کلنائی اور میار پاور پلانٹ کے ڈیزائن‘ سیلاب کے پانی کے بہاﺅ کا ڈیٹا فراہم کرنے‘ زیر تعمیر منصوبوں کے دوروں اور آئندہ اجلاسوں کی تاریخوں پر بات چیت کی جائے گی۔ سندھ طاس کمشن کا بھارتی وفد پاکستان میں قیام کے دوران دو روزہ مذاکرات کرے گا۔ بھارتی وفد کی قیادت بھارتی کمشنر پی کے سکسینہ کریں گے جبکہ پاکستانی کمشنر مرزا آصف بیگ پاکستانی وفد کی قیادت کریںگے۔ ان دو روزہ بات چیت میں تین مجوزہ پاور پلانٹ کے منصوبوں پکل دل‘ لوئر کلنائی اور میار کے ڈیزائن پر بات چیت ہوگی اس کے علاوہ سیلاب کے پانی کے بہاﺅ کا ڈیٹا فراہم کرنے اور زیرتعمیر منصوبوں کے دوروں اور آئندہ میٹنگوں کی تاریخوں پر بھی بات چیت ہوگی ماضی میں کشن گنگا ڈیم پر تحفظات ثالثی عدالت میں لے جانے میں تاخیر سے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا تاہم ہم نے رتلے ڈیم پر بروقت تحفظات اٹھائے پوری امید ہے فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا پاکستان کو رتلے پاور پروجیکٹ کے ڈیزائن پر تحفظات ہیں‘ رتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات عالمی بنک کی ثالثی میں 11,12 اور 13اپریل کو امریکہ میں ہوں گے‘ امریکہ میں ہونے والے مذاکرات سیکرٹری سطح کے ہوں گے‘ پاکستان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کےا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشن گنگا ڈیم پاور پروجیکٹ پر ہمارے تحفظات میں پانی کی کمی شامل نہیں تھا پانی واپس دریا میں آجاتا ہے تاہم ہمیں اس سے دس فیصد بجلی کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ مارچ 2018ءمیں مکمل ہوگا۔انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر پاک بھارت انڈس کمیشن کی سطح پر مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات حکومت پاکستان کی کوششوں سے شروع ہوئے‘ کشن گنگا ڈیم پر ثالثی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکی‘ عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ حکومت پاکستان کی کاوشوں سے سندھ طاس معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا ہے۔ یہ مذاکرات مارچ 2015ء سے تعطل کا شکار ہوگئے تھے جب پاکستان کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے پاور پراجیکٹ پر کمیشن کی سطح کے مذاکرات کو ناکام قرار دیتے ہوئے ثالثی کی طرف جانے کا عندیہ دیا گیا۔ 14اور 15جولائی 2016ءکو پاکستان کے سیکرٹری پانی و بجلی کے بھارتی ہم منصب سے نیو دہلی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پاکستان نے ان دو تنازعات پر ثالثی کا راستہ اپنایا۔ وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ کشن گنگا پاور پراجیکٹ جس کو دریائے نیلم پر تعمیر کیا جارہا ہے پر ثالثی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے جس پر پاکستان عمل درآمد کا تقاضا کررہا ہے۔ رتلے پاور پراجیکٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو تحفظات ہیں۔ ان دونوں تنازعات کو ثالثی کے لئے عالمی بینک کی سطح پر اٹھالیا گیا ہے۔ اس دوران پاکستان مسلسل کوشش کرتا رہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دیگر معاملات پر بات چیت کو جاری رکھا جائے مگر بھارت کی جانب سے اس پر اتفاق نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ بالآخر بھارت اب سندھ طاس معاہدے کے تحت کمیشن کی سطح کے مذاکرات پھر سے شروع کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے ہم بھارتی حکومت کے اس فیصلے اور بھارتی وفد کی پاکستان آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ان چند عالمی معاہدوں میں سے ایک ہے جو دو ملکوں کے مابین آبی ذخائر کے استعمال سنجیدہ معاملات کو پرامن ذرائع سے طے کرنے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس معاہدے کی پاسداری اور اسکے ذریعے مسائل کا حل دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ رتلے پاور پراجیکٹ اور آبی تنازعات پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکرٹری کی سطح پر تین روزہ مذاکرات عالمی بنک کی ثالثی میں امریکہ میں ہوں گے‘ ماضی میں کشن گنگا ڈیم کا معاملہ ثالثی عدالت میں لے جانے میں دس سے بارہ سال کی تاخیر کی گئی جس سے ہمارا موقف کمزور تا تاہم پھر بھی فیصلہ ہمارے حق میں آیا اب رتلے ڈیم پر ہم نے بروقت تمام سنگ میل عبور کئے ہیں اور تحفظات اٹھائے ہیں ہمارا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ڈیم کا ڈیزائن ہم سے شیئر کیا جائے اور اسے دیکھنے کے بعد پتا چلے گا کہ ہمارے کیا کیا تحفظات ہیں ہمیں پوری امید ہے کہ رتلے ڈیم کا فیصلہ بھی پاکستان کے حق میں آئے گا۔
سندھ طاس معاہدہ/ مذاکرات
سیالکوٹ (نامہ نگار) اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے بھارت اور پاکستانی واٹر کمشنروں کی دوروزہ میٹنگ کے باوجود بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 46 ہزار 826 کیوسک پانی مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر بنائے گئے بگلیہار ڈیم پر روک لیا ہے جس کی وجہ سے دریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر پانی کی آمد صرف 8 ہزار 174 کیوسک رہ گئی ہے، تاہم ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہونے والے دو دیگر دریاﺅں جموں توی میں 2 ہزار 186 کیوسک پانی اور دریائے مناور توی میں صرف 1049 کیوسک پانی کی آمد ہے ۔ محکمہ ایری گیشن کے مطابق بھارت کی طرف سے کئی سالوں سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب کا پانی بھارت نے روک رکھا ہے اور پانی کی شدید کمی کی وجہ سے دریائے چناب کا ستانوے فیصدسے زیادہ حصہ خشک ہوچکا ہے اور ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب سے نکلنے والی دو نہروں میں ایک نہر مرالہ راوی لنک بند ہے جبکہ دوسری نہر اپرچناب میں 6 ہزار 909 کیوسک پانی ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے سیالکوٹ سمیت صوبہ کے مختلف اضلاع کی لاکھوں ایکٹر زرعی رقبہ پر فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور کسان وکاشتکار ٹیوب ویلوں کا پانی فصلوں کیلئے استعمال کررہے ہیں۔
سندھ طاس پانی خشک