قومی اسمبلی : فوجی عدالتوں میں 2 سال توسیع کیلئے ترمیمی بل پیش محمود اچکزئی کی مخالفت

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کیلئے 28 ویں ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا۔ ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کی تجویز بل کا حصہ ہے۔ فوجی عدالتوں میں قانون شہادت کے اطلاق کی تجویز بھی بل کا حصہ ہے۔ ملزم کو گرفتاری کی وجوہات بناکر 24 گھنٹے میں پیش کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ملزم کو وکیل کرنے کا حق دینے کی شقیں بھی بل میں شامل ہیں۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے بل پیش کرتے ہوئے کہا 28 ویں ترمیمی بل 2017ءکو ترامیم کے ساتھ پڑھا جائے۔ بل کی محمود خان اچکزئی نے مخالفت کی۔ محمود خان اچکزئی نے بل پر بات کرتے ہوئے کہا ہم نے حکومت کو اپنے مﺅقف سے آگاہ کر دیا تھا۔ کوئٹہ دھماکے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں نے رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین کیا گیا۔ شیخ رشید احمد نے 28ویں آئینی ترمیم کے بل کی حمایت کر دی۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں تو اعتراف کرتا ہوں میں نے پرویز مشرف کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا مجھے تو سمجھ نہیں آتی ملک میں سیلاب آئے تو فوج‘ آفت آئے تو فوج ہر مسئلے کا حل فوج ہی ہے تو حکمران اور سیاست دان کس مرض کی دوا ہیں؟ ایسا کوئی سیاستدان نہیں جس نے مارشل لاءسے جنم نہ لیا ہو جبکہ بلوچستان میں بڑے بڑے سرداروں‘ وڈیروں نے سینکڑوں ایکڑ زمین لی۔ انہوں نے کہا میں 28 ویں آئینی ترمیم کے بل کی حمایت کرتا ہوں‘ ملک میں سب سے زیادہ لوگ مقابلوں میں مارے جاتے ہیں اور ان مارے جانیوالے لوگوں کی بڑی تعداد پنجاب سے ہے۔ آئی این پی کے مطابق قومی اسمبلی میں آڈیٹر جنرل کی ذمہ داریوں، اختیارات اور دور ملازمت کی قیود وشرائط سے متعلق آرڈیننس میں مزید ترمیم کا بل بھی پیش کر دیا گیا۔ پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا افضل نے آڈیٹر جنرل کے فرائض منصبی، اختیارات اور ملازمت کی شرائط سے متعلق آڈیننس 2001ءمیں ترمیمی بل 2017ءپیش کیا جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے اعلیٰ ترین سرکاری افسران کی تقرریوں، ترقیوں کیلئے نگران پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا سول سروسز کے بارے میں عدلیہ نے 2015ءکے سلیکشن بورڈ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا، پہلے بھی الزامات عائد ہوتے تھے کہ من پسند لوگوں کواوپر لایا جاتا ہے، ایک شخصیت کی ایما پر تقرریاں اور ترقیاں ہوتی ہیں پہلی بار 90افسران کی فائل کو واپس کرایا گیا، پارلیمنٹ میں ان معاملات پر بات ہو چکی ہے، وفاق میں سینئر افسران کو نظرانداز کرنے سے بلوچستان اور سندھ کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار ہوچکا ہے، پسند ناپسند کی بنیاد پر ترقیوں اور تقرریوں سے بچنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، پارلیمانی کمیٹی میں اعلیٰ افسران اپنی اے سی آرز کے ساتھ پیش ہو سکتے ہیں، صوبوں کے سینئر افسران کے ساتھ جاری کھلواڑ سے نفرتیں پیدا ہوتی ہے جس کا وفاق متحمل نہیں ہوسکتا۔
فوجی عدالتیں/ قومی اسمبلی