یہ کیسی حکومت ہے جسے اہم عہدے خالی ہونے کا احساس تک نہیں : جسٹس سرمد‘ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا

یہ کیسی حکومت ہے جسے اہم عہدے خالی ہونے کا احساس تک نہیں : جسٹس سرمد‘ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا

اسلام آباد (وقائع نگار+ ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے 100 سے زائد اہم سرکاری عہدے خالی ہونے اور تاحال تقرریاں نہ ہونے پر معاملہ چیف جسٹس  کو بھجوا دیا ہے جس میں چیف جسٹس کو بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سمیت  کئی اہم عہدے  خالی ہیں جس سے عوام کو مشکلات درپیش ہیں ہم نے جتنا کہنا تھا کہہ لیا ہے‘ اس کیس کا فیصلہ بھی خواجہ آصف کیس کی روشنی میں کیا جائے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے  آئی ایس آئی کے ملازم غلام رسول کے مقدمے کی ایف ایس ٹی میں سماعت نہ ہونے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے کہ جسے کتنے سارے اہم سرکاری عہدے خالی ہونے اور ان پر تقرریاں نہ ہونے کا احساس تک نہیں۔ اگر ان اداروں کے سربراہان نہیں ہیں تو یہ ادارے کام کیسے کررہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ادارے عملی طور پر غیر فعال ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ 100 سے زائد اہم عہدوں پر تقرریاں نہ ہونا انتہائی افسوسناک اور الارمنگ ہے۔  ایسے ملازمین بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ ملازمین سروسز ٹربیونل نہ ہونے پر  ریلیف کیلئے کہاں رجوع کریں۔  اٹارنی جنرل  نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ  آصف کیس کے فیصلے کی وجہ سے حکومت کو مشکلات درپیش ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر‘  حکومت اور اپوزیشن میں مشاورت جاری ہے۔ امکان ہے کہ اس کا جلد فیصلہ ہوجائے گا۔ حکومت نے اس  سلسلے میں سی ایم اے درخواست بھی دائر کررکھی ہے جس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے اسلئے ہم اسے چیف جسٹس کو بھجوا رہے ہیں تاکہ وہ خود اس حوالے سے فیصلہ کریں۔ مقدمے کی مزید سماعت 24 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔