حق مہر کی ادائیگی کیلئے سینیٹر اعظم ہوتی کی اہلیہ ہونیکی دعویدار کی خودسوزی کی کوشش

حق مہر کی ادائیگی   کیلئے سینیٹر اعظم ہوتی کی اہلیہ ہونیکی دعویدار کی خودسوزی کی کوشش

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) سینیٹر اعظم ہوتی کی اہلیہ ہونے کی دعویدار کی آئی جی آفس کے باہر خودسوزی  کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ میڈیا  کے مطابق  شمیم کیانی نے آئی جی آفس کے باہر خود سوزی کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکاروں نے پٹرول کا گیلن چھین کر ناکام بناتے ہوئے خاتون کو حراست میں لے کر دامن تھانہ کوہسار منتقل کر دیا۔ شمیم کیانی نے حق مہر کی رقم ادا نہ کرنے پر خود سوزی کی کوشش کی۔ شمیم کیانی نے الزام عائد کیا ہے ان کے سابق شوہر سینیٹر اعظم ہوتی انہیں حق مہر کی رقم ادا نہیں کر رہے جو تقریباً ایک کروڑ روپے بنتی ہے اور انہیں دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے تھانہ کوہسار میں مقدمہ بھی درج کرایا لیکن پولیس کی جانب سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا۔ پولیس کارروائی کے بجائے اعظم ہوتی کو پروٹوکول دے رہی ہے۔ آئی جی سکندر حیات بھی بات سننے کو تیار نہیں۔  شمیم  کیانی نے خودسوزی میں ناکامی پر میڈیا سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں بات نہیں کرنے دی گئی اور پولیس نے انہیں خودسوزی کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ ان کے ہمراہ خواتین اعظم ہوتی کے خلاف نعرے بھی لگا رہی تھیں۔ لیڈیز پولیس نے انہیں پکڑ کر زبردستی گاڑی میں سوار کیا۔ شمیم کیانی کا کہنا ہے سنیٹر اعظم ہوتی کے خلاف عدالت میں حق مہر کا مقدمہ چل رہا ہے۔ مقدمے سے دستبردار ہونے کے لئے اعظم ہوتی کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے میرے گھر پر حملہ کرنے والے مسلح افراد کو گرفتار کیا جائے۔