آرمی چیف سے ایساف کمانڈر کی ملاقات‘ پاکستان کا افغان سرحدی علاقوں میں گولہ باری پر احتجاج

آرمی چیف سے ایساف کمانڈر کی ملاقات‘ پاکستان کا افغان سرحدی علاقوں میں گولہ باری پر احتجاج

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹر+ اے پی اے+ آن لائن) پاکستان نے افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں حالیہ گولہ باری پر شدید احتجاج کیا ہے اور ایساف کمانڈر سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان افغان سرحد پر تعاون کے میکنزم پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان میں ایساف کمانڈر جنرل جوزف ایف ڈنفورڈ نے جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔ جس میں افغان سرحد پر کوآرڈینیشن میکنزم اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے ایساف کمانڈر کو سرحدی صورت حال پر پاکستان کا احتجاج بھی پہنچایا جس پر ایساف کمانڈر نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرحد پر دونوں اطراف تعاون کو بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ملاقات میں افغان سرحد پر رابطے کے نظام کو مزید بہتر بنانے کا جائزہ لیا گیا اور دونوں رہنمائوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اتحادی فوج اور پاک فوج مل کر ہی سرحد پر دہشتگردوں کی نقل وحرکت کو کنٹرول کرسکتے ہیں دونوں رہنمائوں نے باہمی رابطے کو مزید بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر جنرل ڈن فورڈ کو پاک فوج کی ان کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو افغان سرحد پر امن اور استحکام کیلئے کی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا نے اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دے دیا ہے۔ایک ایسے وقت جب پاکستانی حکومت مذاکرات سے انکاری دہشت گرد گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دے چکی ہے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے کمانڈر کی جنرل راحیل شریف سے ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان چاہتا ہے ممکنہ کارروائی کی صورت میں سرحد پار افغانستان کی جانب اس بات کو یقینی بنایا جائے شدت پسند فرار ہو کر وہاں اپنی پناہ گاہیں قائم نہ کر سکیں۔