سینٹ میں ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کا ترمیمی بل 2009ء منظور

اسلام آباد (ایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک) ملازمت پیشہ خواتین کے حقوق اور تحفظ کے بارے میں سینٹ میں فوجداری قانون میں ترمیمی بل 2009ء کثرت رائے سے پاس کر لیا گیا۔ جے یو آئی‘ جمعیت اہلحدیث‘ جماعت اسلامی اور فاٹا اراکین نے بل کی مخالفت کی۔ ایوان نے مذہبی جماعتوں کی طرف سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دیں‘ بل پاس کئے جانے کے خلاف فاٹا ارکان اور مذہبی جماعتوں نے واک آﺅٹ کیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان محمد خان جمالی نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں زرعی فارم جس قیمت پر الاٹ کئے گئے ہیں اس کی تفصیلات سے جمعہ کے روز ایوان کو آگاہ کیا جائے جبکہ وفاقی وزیر قانون و وزیر انچارج کابینہ ڈویژن ڈاکٹر بابر اعوان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت یہ تفصیلات ایوان میں پیش کرے گی جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے ایوان بالا کو بتایا کہ پچھلے تین سال کے دوران کسٹم ڈیوٹی کی چوری کے پنجاب میں 3941، سندھ میں 817، سرحد میں 736، بلوچستان میں 3609 اور اسلام آباد میں 1035 معاملات سامنے آئے۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے سرحد اور فاٹا میں امن کمیٹیوں اور لشکروں کو فنڈز فراہم نہ کرنے کا معاملہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ لاہور‘ گوجرانوالہ موٹر وے سیکشن کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا ٹھیکہ 16جنوری کو نجی کمپنی کو دیا گیا ہے جس کا تعمیراتی کام بہت جلد شروع کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے رولنگ دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری میں اراکین سینٹ کی تجاویز شامل کرنے کے لئے پری بجٹ سیشن منعقد کرایا جائے۔ دریں اثناء وزیر مملکت برائے امور داخلہ تسنیم قریشی نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ سینٹ میں ایک نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے امور داخلہ تسنیم قریشی نے کہاکہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرحد حکومت سے پشاور دھماکے کی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ دریں اثناء اراکین سینٹ نے پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اورنگزیب خان پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت پر ضروری اقدامات کرنے پر زور دیا ہے تاہم بعض اراکین نے پشاور میں جگہ جگہ ناکے لگانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ سینٹ کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بولتے ہوئے وفاقی وزیر بندرگاہ جہاز رانی بابر غوری نے کہا کہ ہمیں پشاور میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں ڈرون حملے کراچی میں نہ شروع ہو جائیں ہمیں اس کی مذمت کرنا چاہئے۔ سینیٹر گل نصیب خان نے کہا کہ صوبہ سرحد میں سکیورٹی فورسز مظالم کرتے ہیں اس حوالے سے پوچھا جائے۔ سینیٹر گلشن سعید نے کہاکہ ہم اپنے سرحد کے بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں اور پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہیں جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی طویل وقفے کے بعد سینٹ کے اجلاس میں آئے جس پر ارکان نے ان کا ڈیسک بجاکر خیرمقدم کیا۔