سپریم کورٹ کے فیصلے سے زرداری کی اہلیت چیلنج کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا: ماہرین

اسلام آباد (بی بی سی اردو ڈاٹ کام + نیٹ نیوز) این آر او کو کالعدم قرار دینے کے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی حکم کے بعد بعض قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے صدر کے عہدے کے لئے آصف علی زرداری کی اہلیت کو چیلنج کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ کچھ قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ جب تک حکومت کی نظرثانی کی درخواست کا فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک صدر کی اہلیت کے بارے میں کسی درخواست پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ حکومت کی جانب سے تفصیلی فیصلے سے محض ایک روز قبل نظرثانی کی درخواست دائر کرنے سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اسے غالباً عدالت کے تفصیلی فیصلے کا علم ہو چکا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے تک وزیراعظم گیلانی کہتے رہے کہ حکومت این آر او کے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لئے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے لیکن اب بعض وزرا نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جب تک نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک حکومت قانون کے مطابق عدالتی حکم پر عمل کرنے کی پابند نہیں۔ بی بی سی کے مطابق نظرثانی کی درخوسست کی سماعت میں سترہ رکنی بنچ میں سے حکومتی استدلال کے بعد چند ججوں نے بھی اپنی رائے بدلی تو سترہ رکنی بنچ کا فیصلہ متنازعہ بن سکتا ہے کیونکہ مبصرین کے بقول عاصمہ جہانگیر سمیت بعض قانونی ماہرین نے جو نکات اٹھائے ہیں انہیں یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔