”ایس پی راول خرم شہزاد کے حکم پر کرائم سین دھویا“ بینظیر قتل کیس کے اہم گواہ نے اقبالی بیان کی تائید کر دی

راولپنڈی (اے پی پی) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک میں بےنظیر بھٹو قتل کیس کے اہم گواہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان نے بے نظیر بھٹو قتل کے حوالے سے کرائم سین سے متعلق اپنے164 کے اقبالی بیان کی تائید کر دی ‘"ایس پی راول خرم شہزاد کے حکم اور برائے راست نگرانی میں کرائم سین دھویا تھا" ۔ فاضل جج نے بےنظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی جس میں استغاثہ کے تینوں گواہان سے جرح کی جائے گی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک کے جج چودھری حبیب الرحمان نے قتل کیس کی سماعت کا باقاعدہ آغاز کیا تو سابق پولیس افسران سید سعود عزیز ‘خرم شہزاد ‘استغاثہ کے گواہان ڈی او فائر ڈاکٹر عبدالرحمان‘ فائر آفیسر غلام محمد ناز اور ملزمان کے وکلاءعدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ ایف آئی اے کے پبلک پراسکیوٹر چودھری ذوالفقار کی عدم حاضری پر خصوصی عدالت کے جج نے سماعت چند گھنٹوں کے لیے ملتوی کر دی۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان نے فاضل جج کے سوال پر بیان اپنا ہونے کی تائید کی اور بتایا کہ میرا یہ ہی بیان ہے کہ بے نظیر بھٹو قتل کے بعد اس وقت کے ایس پی راول خرم شہزاد کے حکم اور انکی براہ راست نگرانی میں جائے وقوعہ کو دھویا۔ فاضل جج نے استغاثہ کے گواہان ڈاکٹر عبدالرحمان ‘غلام محمد ناز اور مجسٹریٹ احمد مسعود جنجوعہ پر جرح کے لیے تنیوں کو طلبی نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت آج (جمعرات) تک ملتوی کر دی۔