چیئرمین نیب کے خط کے جائزہ سے متعلق صدر کا خط ‘ کیا اب سپریم کورٹ کی نگرانی کے لئے کمشن بنائے جائیں گے: چیف جسٹس

چیئرمین نیب کے خط کے جائزہ سے متعلق صدر کا خط ‘ کیا اب سپریم کورٹ کی نگرانی کے لئے کمشن بنائے جائیں گے: چیف جسٹس

 اسلام آباد( نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی زیر صدارت چیئر مین نیب کی توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے چیئر مین نیب کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی۔ بنچ نے ریمارکس دئیے کہ میڈیا سے علم ہوا کہ صدر نے چیئر مین نیب کے خط کا جائزہ لینے کیلئے کمشن بنایا ہے جس کے سربراہ جسٹس(ر) نواز ہوں گے۔ چیف جسٹس نے چیئر مین نیب کے وکیل سے استفسار کیا کیا اب سپریم کورٹ کی نگرانی کیلئے کمشن بنائے جائیں گے۔ چیئر مین نیب فصیح بخاری کے وکیل نوید رسول مرزا نے کہا کہ انہیں کمشن کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کمشن کے قیام سے متعلق خبروں پر اپنے نوٹ میں موقف اختیار کیا کہ سیکرٹری قانون نے ایسے کسی بھی کمشن کے قیام کی تردید کی ہے۔سپریم کورٹ نے خبر چھاپنے والے دو اخبارات کے ایڈیٹروں اور پبلشروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کمشن کے قیام سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 14مارچ تک ملتوی کردی۔
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وزیراعظم پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ملک کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس لعنت کا خاتمہ ہماری بقاءکیلئے ضروری ہے، ہم دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے، امن و سلامتی سے سب کے ساتھ مل کر رہنا ہے، دوسروں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ دوسروں کے نظریات کیلئے برداشت کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہشمند ہے، اس دور میں کوئی بھی ملک نہیں چاہتا کہ وہ حالت جنگ میں رہے بلکہ ہر کوئی امن و سلامتی چاہتا ہے، اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہئے، امن کا پیغام جس نے بھی دیا لوگوں نے اسے قبول کیا مگر تشدد کا راستہ ہمیشہ سب نے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات قومی بین المذاہب کانفرنس سے خطاب میں کہی۔ وزیراعظم نے کہاکہ دنیا کا کوئی مذہب نفرتوں کو پروان نہیں چڑھاتا۔ دوسروں پر اپنی سوچ تھوپنا قطعی غلط ہے، اپنے اپنے مذہب اور فلسفہ پر عمل پیرا ہونے اور دوسروں کی راہ میں رخنہ ڈالنے کی ضرورت ہے، اختلافات کو دور کرنے کا بہترین طریقہ مکالمہ ہے۔ وزیراعظم نے سانحہ کوئٹہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس سانحہ پر ہر آنکھ آشکبار ہے، امن و امان حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ قانون کی پابندی کرے، ایسے واقعات سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہو رہی ہے اور مذہب کو رسوا کیا جا رہا ہے، اگر ملک اور خطے میں امن کے ساتھ رہنا ہے تو کچھ بھی ہو جائے قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا۔ وزیراعظم نے کہاکہ مذہب امن کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے تہذیبوں کی جنگ کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کسی کے خلاف ہے نہ تہذیبوں کی جنگ کو مانتا ہے، اسلامی نظریہ کونسل کے چیئرمین مولانا عبدالشیرانی نے کانفرنس کے انعقاد کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ مذہبی ہم آہنگی کے وفاقی وزیر ڈاکٹر پال بھٹی نے کہا کہ ہم مذہب کے نام پر تمام نفرتوں کو مسترد کرتے ہیں۔ وزیر مملکت اکرم مسیح گل نے کہا کہ تمام مذاہب صلح، امن اور سلامتی کا درس دیتے ہیں۔ قبل ازیں مفتی منیب الرحمن نے سانحہ کوئٹہ میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت کیلئے فاتحہ خوانی کرائی۔