سینٹ: وفاق نے سمت درست نہ کی تو موجودہ شکل برقرار رہنا مشکل ہو گا: رضا ربانی

سینٹ: وفاق نے سمت درست نہ کی تو موجودہ شکل برقرار رہنا مشکل ہو گا: رضا ربانی

 اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) سینٹ کے اجلاس میں سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے پیچھے ہمارے ادارے ہیں۔ پشاور،کوئٹہ اور کراچی جل رہا ہے اور لاہور میں سکون ہے، اس کے پیچھے سازش ہے بے شک ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب میں سکون رہے۔ دہشت گردوں کو بزور طاقت روکنا پڑیگا، پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو انٹرنیشنلائز کرنے کی کوشش کی گئی ہے وفاق نے سمت درست نہ کی تو موجودہ شکل برقرار رہنا مشکل ہو جائیگا۔ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا واقعہ اس روز پیش آیا جس دن گوادر بندرگاہ چین کے حوالے کی گئی ہمیں ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر بحیثیت قوم متحد ہونا ہو گا۔ جمعیت علماءاسلام (ف) نے دہشت گردی اور بم دھماکوں پر حکومتی بے حسی کیخلاف احتجاجاً سینٹ سے واک آﺅٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت کولیشن سپورٹ فنڈ اور کیری لوگر بل کی امداد کو مسترد کر دے۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ ریاست کی رٹ ختم ہو رہی ہے کیا سکیورٹی اداروں سے کوئی پوچھنے والا ہے کہ ناکامی کیوں ہوئی سینیٹر عبدالحسیب نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی پر حملوں میں ملوث افراد کیخلاف موثر کارروائی کی جائے۔ بدھ کو سینٹ کا اجلاس چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا ا جلاس میں کوئٹہ بم دھماکے سے متعلق تحریک التواءپر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر عبد النبی بنگش نے کہا کہ ہم کینسر کا علاج پیناڈول سے کر رہے ہیں سب کچھ جانتے ہیں لیکن نام لینے سے قاصر ہیں قوم بے حس ہو چکی ہے 100 جنازے پڑے ہوتے ہیں یہاں سیاست چمکائی جاتی ہے ۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر عبد الحسیب خان نے کہا کہ ہم نعشوں پر مزاحمتی بیان بازی کر رہے ہیں کیا یہ اللہ کو ناراض کرنے کیلئے کافی نہیں صوبائی حکومتیں کہاں ہیں نعشیں پوچھ رہی ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ میں کیوں بیٹھے ہیں۔ انسانیت قتل ہو رہی، معیشت تباہ ہو رہی ہے جن کو مارا نہیں جا رہا وہ بھوک سے مر رہے ہیں کراچی کو تباہ کر دیا گیا وہاں امن و امان کی جو صورتحال ہے وہاں رہنے والوں کا کیا ہو گا۔ اگر منافقت ختم نہ ہوئی تو ملک تباہ ہو جائیگا۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ وفاق پاکستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، شاید آنے والا تاریخ دان اس بات کی گواہی ضرور دے گا کہ پاکستان کے پارلیمان کے ممبران نے بار بار نشاندہی کی لیکن اس نشاندہی کے باوجود انٹر سٹیٹ نے اپنی سمت درست نہیں کی۔ یہ حقیقت ہے کہ امن و امان صوبائی معاملات ہیں وفاق اطلاعات دے سکتا ہے مگر اقدام صوبوں کو اٹھانے ہونگے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد پارلیمان نے اس بات کے راستے روک دیئے ہیں کہ الیکشن ماضی کی طرح اپنی مرضی کے مطابق کروا لیں گے ماضی کے تمام راستے اب سیاسی طریقے سے عبور ہو سکتے ہیں۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں اگر دو لوگ بلوچستان سے بھی شامل کر لئے جاتے تو اچھا ہوتا ہم آگ سے کھیل رہے ہیں کوئی گارنٹی دے گا کہ آئندہ ایسا واقعہ نہیں ہو گا دہشتگردوں نے پورے ملک کو گھیرا ہوا ہے یہ کوئی بہت بڑی طاقت کام کر رہی ہے ملک میں سول وار شروع ہو سکتی ہے۔ ہزارہ قبیلے کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ قیامت صغریٰ سے کم نہیں رضا ربانی نے مزید کہا کہ آرٹیکل 245 کو کوئٹہ کی حد تک بھی استعمال کرنے کی حمایت نہیں کرینگے۔ اسلام الدین شیخ نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے معاملے پر کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر علی بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے صرف تنقید نہ کی جائے ارکان مسئلہ کا حل اور تجاویز بھی پیش کریں۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے ارکان نے بلوچستان کی صورتحال پر واک آﺅٹ کیا۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ آج تک ہمیں دہشت گردی کی تعریف سمجھ نہیں آ سکی ہمیں کولیشن سپورٹ فنڈ انسداد دہشت گردی کے لئے نہیں فروغ دہشت گردی کے لئے ملتا ہے۔ اجلاس آج صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔