حج کرایوں میں اضافہ: وفاقی کابینہ نے دھماکہ خیز مواد کی روک تھام کے بل کی منظوری دیدی

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم پرویز اشرف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 2013ء کے لئے حج پالیسی کی منظوری دے دی گئی جس کے مطابق ایک لاکھ 80 ہزار افراد فریضہ حج ادا کرینگے۔ نئی پالیسی کے تحت عازمین حج کے لئے کرائے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر مذہبی امور آج حج پالیسی پر بریفنگ دینگے۔ وفاقی کابینہ نے وزارت پٹرولیم کی جانب سے اوگرا کو وزارت پٹرولیم کے ماتحت کرنے کی سمری مسترد کر دی، واضح رہے کہ اس معاملے پر وزارت پٹرولیم اور اوگرا میں کافی تناﺅ کی کیفیت ہے کہ اوگرا کو وزارت پٹرولیم کے حوالے کیا جائے یا نہیں، گزشتہ ہفتے مشیر پٹرولیم اور چیئرمین اوگرا کے درمیان پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ اجلاس میں کوئٹہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ کراچی میں دہشت گردی سے جاں بحق ہونے والوں کیلئے بھی فاتحہ خوانی کی گئی۔ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے پارلیمانی وفد کے دورہ کوئٹہ اور مذاکرات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں دھماکہ خیز مواد آئی ای ڈیز کی روک تھام کے بل 2012 کی بھی منظوری دی گئی۔ ذرائع کے مطابق بل میں کہا گیا ہے کہ آئی ای ڈیز بنانے اور فروخت کرنے والوں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق سزا ہوگی۔ وفاقی کابینہ نے پاکستان میں گیس کی تلاش کیلئے عالمی کمپنیوں سے آفر مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں 51 ٹریلین مکعب میٹر ذخائر ہیں یہ ذخائر زیر زمین انتہائی گہرائی میں ہوتے ہیں ان ذخائر کی دریافت سے ملک میں گیس کی قلت ختم ہو جائیگی۔ حیدر آباد، کراچی سپر ہائی وے کو موٹر وے کی طرز پر چھ رویہ کرنے کے لئے ایف ڈبلیو او کو ٹھیکہ دیدیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ 2015ء میں مکمل ہو گا اور اس پر مارچ 2013ءمیں کام شروع ہو گا۔ یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ کائرہ نے کہا کہ نگران سیٹ اپ پر مشاورت شروع کی گئی ہے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے نگران وزیراعظم کے با رے میں فیصلہ کر لے گی، حکومت جب اور جہاں چاہے فوج تعینات کر سکتی ہے۔ نگران سیٹ اپ پر مشاورت جاری ہے امید ہے وقت آنے پر بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ سانحہ کوئٹہ کے متاثرین کے تمام جائز مطالبات تسلیم کئے گئے۔ کابینہ نے تیل کے ذخائر کی تلاش کیلئے کمپنیوں کو لائسنس کے اجرا کی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ریال مہنگا ہونے کی وجہ سے حج کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سانحہ کوئٹہ میں ملوث تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ اجلاس میں کوئٹہ پشاور اور ہنگو دھماکوں میں جاں بحق افراد کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ بعض وزراء نے اصرار کیا کہ حج پالیسی کو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے تاہم وفاقی وزیر مذہبی امور نے موقف اختیار کیا کہ وقت کم ہے اسی اجلاس میں منظوری چاہئے۔ وفاقی کابینہ نے دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں سے متعلق ترمیمی بل 2012ءاور گیس کمپنی کے تین پائلٹ پراجیکٹس اور حیدرآباد سے کراچی موٹر ویز تعمیر کا ٹھیکہ نیسپاک اور ایف ڈبلیو کو دینے کی منظور دی 75 ریلوے انجنوں کی خریداری کا معاملہ دوبارہ موخر کر دیا۔ وفاقی کابینہ نے اوگرا آرڈیننس گائیڈ لائنز لے لئے اور تین رکنی کمیٹی قائم کر دی جو وزیر خزانہ، وزیر قانون اور وزیر پٹرولیم پر مشتمل کمیٹی گیس چوری روکنے سمیت مختلف تجاویز تیار کرے گی۔ پی آئی اے کے حج کرایوں کا فیصلہ وزارت دفاع اور وزارت مذہبی امور مل کر کرے گی۔ کوئٹہ میں دہشت گردوں کی سرکوبی تک ٹارگٹڈ آپریشنز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں اوگرا کو گیس کمپنیوں کے ساتھاپنے معاملات فوری طور پر درست کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس نے سانحہ کوئٹہ پر افسوس کا اظہار کیا اور شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی، کابنیہ نے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔ وزیراعظم نے کابینہ کو اپنے دورہ برطانیہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا جس میں نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اوگرا سے کہا گیا ہے کہ وہ گیس کمپنیوں سے اپنے معاملات فی الفور درست کریں تاکہ عوام پر بوجھ کم سے کم ہو سکے۔ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا جس کی صدارت فاروق ایچ نائیک کرینگے۔ گیس کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ عوام کو گیس کی فراہمی بلاتعطل یقینی بنائیں۔ کائرہ نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ برطانیہ سرکاری تھا ہزارہ برادری کے اکثریتی مطالبات تسلیم کر لئے ہیں ان کے جائز مطالبات میں کوئٹہ میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے جو کامیابی تک جاری رہے گا۔ متاثرین کے اہلخانہ کو معاوضہ دیا جائیگا، شدید زخمیوں کو بذریعہ ہوائی جہاز کراچی منتقل کیا جا رہا ہے، ہزارہ کمیونٹی کے دکھ میں شریک ہیں لاشوں کی تدفین پر ہم ان کے مشکور ہیں، کوئٹہ میں امن کیلئے ہرممکن اقدام کرینگے، فرقہ وارانہ مواد کے خاتمے کیلئے کوششیں کرینگے۔ وزیراعظم نے نگران وزیراعظم پر مشاورت کا آغاز کر دیا ہے چودھری نثار نے کہا ہے کہ نام پر اتفاق ممکن نہیں ہمیں نا مپر کوئی عجلت نہیں 16 مارچ کے بعد 3 دن کے اندر اندر اگر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد ہو جائیگا، 20 ویں ترمیم میں واضح طریقہ کار موجود ہے ڈیڈ لاک نہیں ہوگا۔ طاہر القادری سے معاہدہ توڑا ہے نہ توڑیں گے ہم ان کے معاہدے کے پابند ہیں، ہم طاہر القادری کے مشکور ہیں کہ انہوں نے 60 دن میں الیکشن کرانے اور 15 دن میں سکروٹنی کرانے کی ہماری بات تسلیم کر لی۔ الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے حفیظ شیخ کا استعفی مک مکا نہیں ہے ان کے نگران وزیراعظم بننے کی باتیں قبل ا ز وقت ہیں۔ حکومت ویج ایوارڈ پر عملدرآمد کرائیگی، 8 ویں ویج ایوارڈ کے لئے کمشن بنا دیا ہے۔ میڈیا جتنا آزاد ہے کبھی نہیں تھا میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگائی، صحافت کے نام پر چینلز پر بے ہودگی اور تضحیک ہوتی ہے ہم نے پھر بھی اشتہار بند نہیں کئے۔ کابینہ نے آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن اور بین الصوبائی ہم آہنگی ڈویژن سے متعلق کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 16 میں سے 9 کابینہ فیصلوں پر عملدرآمد ہوچکا ہے دیگر عملدرآمد کے مختلف مراحل میں ہیں۔ کابینہ نے 29جنوری2013ءکو ای سی سی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے غور کے بعد پاکستان اور سری لنکا، پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی بنیادوں پر پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) اور ان ممالک کے فنانشنل انٹیلی جنس یونٹس (ایف آئی یوز) کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر مذاکرات شروع کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ بنیادوں پر معاہدہ اور مفاہمت کی یادداشت پر مذاکرات شروع کرنے کی فیوچر ٹریڈنگ بل 2013ءکی منظوری دی۔ اس بل سے مستقبل کی منڈیوں کے حوالہ سے ریگولیٹری ضروریات سے متعلق جامع فریم ورک کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ترمیمی) بل 2013ءکے مسودہ کی منظوری دی۔ کابینہ نے غور کے بعدماحولیاتی تبدیلی اور متعلقہ اقدامات کے سلسلہ میں اطالیہ کی خودمختار اور غیرمنافع بخش ای وی کے 2 سی این آر اور گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈیز سینٹر ( جی سی ایس سی) کے درمیان تعاون اور سائنسی تحقیق کے فروغ بالخصوص ہندوکش قراقرم ہمالیہ ریجن کے ممالک کی ترقی کے حوالہ سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے کوریا اور پاکستان کے درمیاں گرانٹ ایڈ معاہدہ کے فریم ورک کی توثیق کی۔ کابینہ نے اوگرا آرڈیننس2002ءکے سیکشن 21 کے تحت پالیسی گائیڈ لائن پر غور کیا اور فیصلہ کیا اس ضمن میں کابینہ کمیٹی کے فیصلہ پر عملدرآمد کیاجائے گا۔ کابینہ نے اولین تین آزمائشی منصوبوں کے تیل گیس فریم ورک کی منظوری دی جس کے تحت بین الاقوامی کھلی بولی ہوگی اور وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل کو ہدایت کی گئی کہ وہ تیل گیس کی تلاش کے لئے معیار کو حتمی شکل دے۔ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کی جانب سے 2010ءمیں آبی شعبہ ٹاسک فورس کی حتمی رپورٹ کابینہ میں پیش کی گئی۔ اس رپورٹ کا بنیادی مقصد پاکستان میں آبی امور سے نبردآزما ہونے کے لئے طریقہ کار کی تیاری ہے۔ کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہ بشیر بلور کا نام نوبل امن انعام کیلئے تجویز کیا جائے گا۔
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے تمام محب وطن پاکستانےوں سے اپےل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمےوں پرکڑی نگاہ رکھےں اور انکے خلاف کارروائی کرنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دےں، پاکستان دہشت گردی کی لعنت کا جرا¿ت مندی کے ساتھ سامنا کر رہا ہے، اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ لڑائی جاری رکھے گا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزےر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مسئلہ ہے اس کے حل کے لئے قومی انداز فکر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، حکومت آتی، جاتی رہتی ہے لیکن ملک انشاءاللہ قائم و دائم رہے گا، ہم سب پاکستان اور اس کے عوام کے خادم ہیں اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اس کی خدمت کرتے رہیں گے، جمہوریت دشمنوں کی طرف سے غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران کچھ نہیں کیا، درحقیقت حکومت نے کئی رکاوٹوں کے باوجود امن و امان کی صورتحال اور معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کئے ہیں۔ کوئٹہ میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ کوئٹہ بم دھماکے سے انتہائی افسردہ ہیں۔ کابینہ نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف لڑائی جاری رکھنے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کابینہ نے اس قسم کی وحشیانہ کارروائیوں کے پس پردہ عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگین مسائل کے حل کے لئے تمام سیاسی قیادت کی حمایت اور قوت کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کے رہنماﺅں کی قربانیاں جمہوریت کی تاریخ میں سنہری حروف سے تحریر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور پارلیمانی کمیٹی کی قابل تحسین کوششوں مجرموں کے خلاف مرکوز اور ٹارگٹڈ آپریشن اور نئے صوبائی پولیس افسر بلوچستان کی تعیناتی کی بدولت متاثرہ بھائیوں کے ساتھ بات چیت کامیاب رہی۔ یہ حکومت کا عزم ہے کہ اپنے بھائیوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ برطانیہ کا میرا حالیہ دورہ بھی برطانوی حکومت کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کے ساتھ ملاقات کے سلسلے میں تھا۔ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، نیٹو افواج کی واپسی کے بعد افغانستان کی صورتحال سمیت دوطرفہ دلچسپی کے امور بھی زیربحث آئے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کا ملک وسیع تر سٹریٹجک مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ڈیوڈ کیمرون نے پہلے کے مﺅقف کا اعادہ کیا کہ ”آپ کے دوست ہمارے دوست ہیں اور آپ کے دشمن ہمارے دشمن ہیں“۔ وزیراعظم نے یورپی یونین ممالک سے پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس مرتبے کے حصول کے معاملے پر پاکستان کی حمایت کرنے پر برطانوی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہاکہ اقتصادی فوائد سے استفادہ کے لئے مارکیٹ اوپن کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے حالیہ سہ فریقی اجلاس کو سراہتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا کردار تعمیری ہے اور وہ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لئے رواں موسم گرما میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہ امر انتہائی اطمینان بخش ہے کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری نے اقتصادی محاذ پر پاکستان کو تقویت دینے اور اپنے وطن کی بہتری کے لئے کام کرنے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔