تجاوزات ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ آن لائن) سپریم کورٹ میں کراچی کے پبلک پارکس و سرکاری اراضی پر قبضے اور تجاوزات کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق پارکوں سے قبضے اور تجاوزات کے خاتمے کے لئے کتنے ہزار سال چاہئیں؟ جبکہ فاضل عدالت نے حکومت سندھ کو جواب دینے کے لئے 10دن کی مہلت دے دی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ (سندھ) نے عدالت کو بتایا کہ پارکوں سے تجاوزات کے خاتمے کے لئے کام کر چکے ہیں تاہم اس حوالے سے رپورٹ دینے کے لئے مہلت دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 2010ءسے کیس زیرسماعت ہے، آج بھی مہلت مانگ رہے ہیں۔ پاکستان بھر میں قائم تجاوزات ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ بڑی سڑکیں تجاوزات سے بھری پڑی ہیں۔ عوامی پارکوں پر قبضے بڑھ رہے ہیں۔ جسٹس عظمت نے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پارکوں پر کوئی قبضہ باقی نہیں رہا۔ درخواست گزار نعمت اللہ خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 226پارکوں پر تجاوزات قائم کئے ہیں۔