ایساف کنٹینرز کیس: نیب کچھ نہیں کر رہا‘ قوم کا لوٹا پیسہ کہیں نہیں جانے دیں گے: جسٹس افتخار

ایساف کنٹینرز کیس: نیب کچھ نہیں کر رہا‘ قوم کا لوٹا پیسہ کہیں نہیں جانے دیں گے: جسٹس افتخار

 اسلام آباد( نماندہ نو ائے وقت ) سپریم کورٹ میں ایساف کنٹینرز کیس کی چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی۔ نیب اور ایف بی آر کی رپورٹس پیش کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا یہ کب کی رپورٹ ہے آج سپریم کورٹ میں داخل کی ہے،جسٹس عظمت سعید نے کہا آپ کی کارکردگی کی حد ہوگئی،رپورٹ پیدل آرہی تھی یا کبوتر لارہے تھے۔چیف جسٹس نے کہا اربوںکا ٹیکس چوری ہوا،اب تک کیا ریکوری ہوئی۔ایف بی آر کے وکیل نے کہا اب تک 26 لاکھ روپے کی وصولیاں ہوچکی ہیں۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا بچپن میں اماں کہتی تھیں اندھیر نگری تو اس کا مطلب سمجھ نہیں آتا تھا،اب اندھیر نگری کا مطلب بخوبی سمجھ آرہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کنٹینرز میں ٹریکنگ سسٹم لگانے میں جو کچھ ہوا، وہ بھی دیکھ لیں گے۔ جس ریٹ پر ٹینڈر مشتہر ہوئے کس ریٹ پر جاری کئے گئے۔وکیل ایف بی آر نے کہا 50سے 60کنٹینرز روزانہ سکین ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ایک سال ہوگیا آپ سب کو کلین چٹ دے رہے ہیں۔ٹیکس عوام کا پیسہ ہے،ہمارا مقصد ہے کہ کوئی اسے چوری نہ کرے۔ نیب کچھ نہیں کر رہا ہے،لگتا ہے سارا معاملہ ِادھرا اُدھر کردیا گیا،کیس واپس وفاقی ٹیکس محتسب کو بھجوانا پڑے گا،حالیہ اقدامات کے بعد ایف بی آر کے ٹیکس محصولات میں کتنا اضافہ ہوا۔ایف بی آر کے وکیل عدالت کو کوئی جواب نہ دے سکے۔ جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیئے آپ سیدھا کہہ دیں کہ چوروں کو نہیں پکڑنا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے عدالتی حکم کے تحت 2ماہ میں یہ کام مکمل کرنا تھا مگر یہ نہ ہوسکا۔عدالتی حکم امتناعی نہ ہونے کے باوجود ایف بی آر ٹیکس نادہندگان سے وصول نہیں کر رہا کیس میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ڈی جی نیب سندھ سے پوچھ کر بتائیں ملزمان کے خلاف ریفرنس کو کیوں حتمی شکل نہیں دی گئی۔ متعدد عدالتی احکامات کے بعد کوئی ریکوری نہیں کی گئی۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے ڈیوٹی چوری ہونے کی رپورٹ دی تھی۔ آئندہ سماعت پر یہ معاملہ وفاقی محتسب کو بھجوانے پر غور کیاجائیگا۔ وکیل ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ ٹربیونل کی تشکیل کیلئے وزارت قانون کو خط لکھاہے۔ 500 سے زائد افراد اپیل میںٹربیونل چلے گئے ہیں۔ٹربیونل کی تشکیل مکمل نہیں اور اپیلیں زیر التو ہیں۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ٹربیونل مکمل کرانے کی ذمہ داری ایف آر کی ہے۔ یہ بالکل واضح کیس ہے جس میں بھاری رقم کا معاملہ ہے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کی روشنی میں 25ستمبر کوایک اجلاس ہوا۔اجلاس میں چیئر مین نیب،چیئر مین ایف بی آر،ممبر کسٹم سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے نیب کے اجلاس میں 19 ارب روپے کی ٹیکس چوری کاذکر ہے۔ایف بی آر نے نشاندہی کی تھی کہ54 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قوم کا لوٹا ہوا پیسہ کہیں نہیں جانے دیں گے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت22فروری تک ملتوی کردی گئی۔