انسداد دہشتگردی کا ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور‘ نثار کا ڈگریاں الیکشن کمشن بھجوانے سے انکار‘ سپیکر کا معاملہ پر کمیٹی بنانے کا اعلان

اسلام آباد (وقت نیوز + نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی کا ترمیمی بل 2013ءمنظور کر لیا گیا۔ بل کی منظوری کے بعد دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کی املاک ضبط کی جا سکیں گی۔ بل کے تحت دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو سکے گی۔ بل وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے پیش کیا۔ ایوان نے بل کی شق وار منظوری دی۔ قبل ازیں اپوزیشن لیڈر نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور اعلیٰ حکام کو پارلیمنٹ میں طلب کرنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن پر قادری اور پی ٹی آئی کے احکامات چل رہے ہیں کمیشن کو میڈیا ہاﺅس نہ بنایا جائے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہاکہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بغیر کسی حقائق کے سیاستدانوں کو بدنام کیا جا رہا ہے ان کو کرپٹ، نادہندہ، جعلی ڈگری والے کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ ہمارا مو¿قف ہے کہ کسی کو اس کی کرپشن کے حوالے سے نہ پکاریں بلکہ انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ سیاستدانوں کو ننگی گالیاں دینے والے اپنے گریبانوں کا بھی جائزہ لیں۔ نام نہاد جعلی ڈگری کیس کے حوالے سے بلاتفریق سب کو بدنام کر دیا گیا۔ تمام ارکان پارلیمنٹ کو ٹیکس چور، جعلی ڈگری ہولڈر اور دھوکے باز قرار دیا جا رہا ہے سب کو بد نام کیا جا رہا ہے۔ میں نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم اے کیا ڈگریوں کے حوالے سے فہرست میں میرا نام بھی جاری کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمشن والے کسی دور میں فوجیوں کے ملازمین ہوتے تھے ان کو آزادی وخود مختاری پارلیمنٹ نے دی ہے۔ میں نے چیف الیکشن کمشنر کو نوٹس کا جواب دیا ہے۔ میں اپنی اسناد نہیں بھجواﺅں گا چاہے مجھے نااہل قرار دے دیا جائے۔ دریں اثناء الیکشن کمشن کی جانب سے بغیر کسی جواز کے اراکین پارلیمنٹ کو ڈگریوں کی تصدیق کے لئے نوٹسز بھجوانے کے معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے تمام پارلیمانی جماعتوں سے فی الفور نامزدگیاں مانگ لی ہیں۔ ثناءنیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن آف پاکستان اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز نہ کرے اس طرح انتخابی عمل مشکوک ہو جائے گا۔ سب جماعتوں کو ایک نظر سے دیکھیں۔ صاف و شفاف انتخابات کے حوالے سے عوامی توقعات پوری نہ ہوئیں تو یہ ملک دشمنی اور جمہوریت کے خلاف سازش ہو گی۔ الیکشن کمشن ڈگریوں کے حوالے سے 249 ارکان پارلیمنٹ کو بھجوائے گئے خطوط سے دستبردار ہو۔ وزیر قانون و انصاف نے کہا کہ الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ بار اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کے فنڈز روکنے کا خط بھی وزارت خزانہ کو لکھ دیا ہے۔ انتخابات کے قریب ڈگریوں کے حوالے سے نوٹسز بھجوانا کسی کو نااہل قرار دینے کی مشق لگتا ہے۔ اوچھے ہتھکنڈے میں الیکشن کمشن آف پاکستان آئین کی شق 218 کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اے پی اے کے مطابق فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن کو اراکین پارلیمنٹ کی تضحیک کا کوئی حق نہیں، ایسا کرکے انہوں نے آئین کے آرٹیکل 218 کی خلاف ورزی کی، الیکشن شیڈول کے اعلان سے قبل ہی اس طرح کی حرکات سے لوگوں میں الیکشن کمشن کے بارے میں شفاف انتخابات کرانے کی توقعات ختم ہو جائیں گی۔