قومی اسمبلی : ملک میں 8 ارب کی گیس چوری ہورہی ہے : شاہد خاقان

قومی اسمبلی : ملک میں 8 ارب کی گیس چوری ہورہی ہے : شاہد خاقان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزارت دفاع سے متعلقہ پانچ سوالوں کا جواب نہ آنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع کو طلب کرلیا اور کہا وزیر دفاع اس حوالے سے جواب دیں بصورت دیگر انہیں یہ معاملہ اعلیٰ ترین سطح پر اٹھانا پڑے گا۔ وقفہ سوالات کے دوران وزارت دفاع سے متعلقہ سوالات کا جواب نہ آنے پر پارلیمانی سیکرٹری چوہدری جعفر اقبال نے استدعا کی آئندہ باری تک یہ سوالات موخر کئے جائیں۔ جن متعلقہ اداروں سے متعلق یہ سوالات تھے ان سے وزارت کو جواب موصول نہیں ہوا۔ اس پر سپیکر نے کہا یہ صورتحال ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔ سپیکر نے افسران کی گیلری میں بیٹھے جوائنٹ سیکرٹری دفاع سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا سیکرٹری دفاع کو فوری طور پر میرے چیمبر میں آنے کے لئے کہا جائے تاکہ ان سے بھی جواب موصول نہ ہونے پر باز پرس کی جا سکے۔ وفاقی وزیر قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے وقفہ سوالات کے دوران قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ملک میں آٹھ ارب روپے کی گیس چوری ہورہی ہے، خیبرپی کے کے علاقوں میں مرکزی پائپ لائنوں میں شگاف ڈال کر گیس چوری کی جارہی ہے‘ اس کے سدباب کے لئے صوبائی حکومت کا تعاون حاصل نہیں۔ کرک میں اربوں روپے کی گیس چوری ہو رہی ہے، دھمکیوں سے نمٹنا جانتے ہیں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا وزارت قانون وفاقی دارالحکومت میں شام کے اوقات میں عدالتوں کے قیام کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ شہباز بابر اور عارف علوی کے سوال پر انہوں نے کہا سپریم کورٹ میں 32058، لاہور ہائی کورٹ میں 2 لاکھ 14 ہزار، سندھ ہائی کورٹ میں 25809، پشاور ہائی کورٹ میں تقریباً 31 ہزار، بلوچستان ہائی کورٹ میں 6277 اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں 13883 مقدمات زیر سماعت ہیں، انہوں نے بتایا خواتین کی مخصوص نشستوں میں اضافہ کا فیصلہ الیکشن کمشن کے دائرہ کار میں نہیں آتا، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کر سکتی ہے۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں پی پی پی اور تحریک انصاف نے لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی اور عدم بازیابی کے خلاف ایوان سے واک آ¶ٹ کیا۔ اس سے قبل اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا پارلیمنٹ کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کو کوئی بچانے کے لئے نہیں آئے گا۔ اس لئے پاکستانی آئین کی حفات کی جائے اور آئین کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا جو قوم آئین اور قانون کو نہیں مانتی تو فرشتے اس کا تحفظ کرنے نہیں آئیں گے۔ آئین کا تحف کرنا سب پر فرض ہے۔ اور ارکان پارلیمنٹ کا بھی فرض ہے آئین پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی روز سے گم شدہ افراد کی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں نجی طور پر ہی بتا دیتے ہم مجبور ہیں، بے بس ہیں اور بہت سی چیزوں میں پھنسے ہوئے ہیں تو ہم اس کو بھی مان لیتے۔ انہوں نے کہا ہم چیخ چیخ کر 10 دن سے بول رہے ہیں مگر ہم بے بس سپیکر، بے بس حکمران اور کمزور پارلیمنٹ کے سامنے ہی اپنی آواز رکھ سکتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے خطاب کے بعد تحریک انصاف اورر پی پی پی کے ارکان واک آ¶ٹ کر کے ایوان سے باہر چلے گئے۔ ایم کیو ایم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ قومی اسمبلی میں کورم کی کمی کے باعث وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر ملکی تجارت کے حوالے سے اپنا پالیسی بیان مکمل نہیں کر سکے۔ وفاقی وزیر تجارت پالیسی بیان دے رہے تھے کہ رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے کورم کی نشاندھی کر دی۔ گنتی کے بعد ڈپٹی سپیکر نے کہا کورم پورا نہیں اور اجلاس آج بروز جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا۔ اس سے قبل تحریک انصاف کی رکن عائشہ گل نے واک آ¶ٹ کے بعد کورم کی کمی کی نشاندھی کی تاہم گنتی کے بعد تعداد پوری نکلی۔
قومی اسمبلی