عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں جے آئی ٹی میں گناہی ثابت کریں گے : نواز شریف

عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں جے آئی ٹی میں گناہی ثابت کریں گے : نواز شریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم نوازشریف نے وزیراعظم ہاﺅس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ ذرائع نے بتایا وزیراعظم نے فیصلہ کے اعلان کے فوری بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نوازشریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے وزیراعظم کو مبارکباد دی۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان‘ گورنر سندھ محمد زبیر عمر‘ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید‘ وزیراعظم کے معاون عرفان صدیقی نے بھی میاں محمد نوازشریف کو مبارکباد دی۔ وزیراعظم نوازشریف نے شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا۔سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے بعد وزیراعظم نے اپنے ردعمل میں عدالتی فیصلے پر من وعن عملدرآمد کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا انہوں نے خود کو عدالت کے رحم وکرم پر رکھا۔وزیراعظم نے کہا عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں‘ جے آئی ٹی میں بھی بے گناہی ثابت کریں گے۔ پہلے بھی بے گناہی کے ثبوت عدالت میں پیش کیے تھے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج حق وسچ کی فتح ہوئی ہے، عدالت کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد اور جے آئی ٹی کےساتھ مکمل تعاون کیا جائیگا، عدالتی فیصلہ وزیراعظم نوازشریف کے موقف کی فتح ہے۔ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اللہ کا شکرادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے چھ ماہ پہلے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا کہ پانامہ کے معاملے پر کمشن تشکیل دیا جائے، عدالت نے آج جو فیصلہ دیا ہے وہ وزیراعظم کے موقف کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا ہم ہر طرح کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔ آج کے فیصلے سے طے ہوا کہ مخالفین نے جو ثبوت دیئے تھے وہ ناکافی تھے اس میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے عوام کی دعائیں ہمارے ساتھ تھیں جو لوگ یہ خواہش رکھتے تھے کہ وزیراعظم نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا سکتے ہیں ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ نواز شریف 2018ءتک وزیراعظم رہیں گے اور آئندہ بھی پانچ سال کیلئے وزیراعظم منتخب ہونگے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ناکام سیاستدانوں نے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی کوشش کی انہیں پہلے کشمیر، گلگت بلدیاتی کنٹونمنٹ بورڈ اور ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی ان کی کوشش تھی کہ عدالت کے ذریعے شب خون ماریں وزیراعظم کو ہٹانے کیلئے چور دروازہ استعمال کریں مگر سپریم کورٹ نے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا اور انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا آج کے دن ایک بار پھر نواز شریف ان کی ٹیم اور ووٹر اور ہر پاکستانی جو جمہوریت سے پیار کرتا ہے وہ سرخرو ہوا ہے۔ ہم نے بار بار کہا ہے کہ عدالت کے فیصلوں کا احترام کیا جائےگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ جو کہا تھا اس پر عمران خان، سراج الحق اور باقی اپوزیشن عمل کرے، آئینی عدالت نے فیصلہ دیدیا ہے، جے آئی ٹی کی تشکیل وزیراعظم کے موقف کی فتح ہے، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تو عمران خان کی طرح سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف صادق بھی ہیں اور امین بھی ہیں ۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ عمران خان عوام سے معافی مانگیں آج حق اور سچ کی فتح ہوئی ہے۔انوشہ رحمان نے کہا عدالتی فیصلے میں جن ججز نے اختلافی نوٹ دیئے ہیں یہ ان کی اپنی رائے ہے فیصلہ صرف وہی ہے جو اکثریتی ججوں نے دیا ہے ۔ عابد شیر علی نے کہا کہ تحریک انصاف کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائیگی۔ وزیر مملکت اطلاعات مریم نواز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ(ن) ایک بار پھر سرخرو ہوئی ہے۔ جھوٹے الزامات لگانے والی پارٹی عدالت سے شرمندہ ہوکر نکلی ہے۔ فیصلے نے وزیراعظم کے اپریل 2016ءکے خط کی تائید کی ہے۔ وزیراعظم نے جھوٹے الزامات کا سامنا تحمل‘ صبر اور بردباری سے کیا۔ وزیراعظم نے ان کی منفی سیاست کا دن رات کام کرکے جواب دیا۔وزیراعظم نے خط میں تحقیقات کیلئے کمشن بنانے کا کہا تھا۔ طارق فضل چودھری نے کہا آنے والی تحقیقات سے ان کی سازشیں ہمیشہ کیلئے دفن ہوں گی۔
وزےر اعظم