نواز شریف تحقیقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اخلاقی جواز کھودیا مستعفی ہوجائیں : عمران ،زرداری

نواز شریف تحقیقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اخلاقی جواز کھودیا مستعفی ہوجائیں : عمران ،زرداری

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ایسی ججمنٹ کبھی نہیں آئی، پاکستانی قوم کی طرح نواز شریف کو کہتا ہوں کہ فوری طور پر استعفیٰ دےں کیونکہ ان کے پاس وزیر اعظم رہنے کا کون سا اخلاقی جواز رہ گیا ہے، وزیر اعظم کرسی پر رہے تو تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جو ادارے وزیر اعظم کے ماتحت رہیں گے وہ تحقیقات کیسے کریں گے، اگر نواز شریف60 دن میں کلیئر ہو جاتے ہیں تو دوبارہ آ جائیں ‘ سپریم کورٹ نے آج تاریخی فیصلہ دیا، ملکی تاریخ میں ایسا فیصلہ نہیں آیا ‘ قطری خط تو مسترد ہو گیا ہے ‘ اس طرح دوسرے معاملات بھی کھلیں گے ‘ اب وزیر اعظم کی اور تلاشی لی جائے گی ‘ وزیر اعظم کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا ‘ اگر عوام سڑکوں پر نہ آتی تو یہ کبھی بھی نہ ہوتا۔ جو فیصلہ آیا ہے اس کا مطلب ہے جو بھی منی ٹریل کی وضاحت کی گئی تھی وہ مسترد ہو چکی۔ 2 ججوں نے کہا کہ نواز شریف کو نااہل کیا جائے۔ ان کے پاس کیا اخلاقی جواز رہ گیا۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ نیب فیل ہو گئی وہ ادارے پھر بھی وزیر اعظم کے ماتحت رہیں گے کیسے وہ تحقیقات کر سکتے ہیں۔ مٹھائی کس چیز کی بانٹی جا رہی ہیں۔ پانچوں ججز نے نواز شریف کے شواہدکو مسترد کر دیا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے اور اظہار خیال کریں گے۔ فواد چودھری نے کہا کہ عدالت نے حکومت کے ثبوت کو ناکافی قرار دے کر ایک کمشن بنانے کا حکم دیا ہے اور سات دن کے اندر اس کی تحقیقات شروع ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا وزیراعظم جوائنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں گے، جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار نے کہا کہ وزیراعظم کو گھر بھیج دیاجانا چاہئے جبکہ تین ججوں نے کہا کہ 60 دن انتظار کرو۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری نظر میں وزیراعظم کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دےدینا چاہئے، جو سپریم کورٹ نہ کر سکی وہ کیا وزیراعظم کے ماتحت لگے ہوئے 19 گریڈ کے افسر کر سکیں گے۔ انہوں نے پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے چیئرمین پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹی رہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ نواز شریف کا بیان کیا تھانے میں لیا جائے گا یا افسر پی ایم ہاﺅس جاکر لیں گے، پیپلز پارٹی اور قوم کو ان ججز سے کبھی انصاف نہیں ملا۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے عمران خان سے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ آﺅ، قانون بنا کر سپریم کورٹ چلتے ہیں لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی، ناتجربہ کار ہیں، انہیں نہیں پتہ یہاں ججز کیسے انصاف چلاتے ہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ آج پاکستان میں انصاف اور جمہوریت کا نقصان ہوا اور پاکستانی عوام کو دھوکا دے کر بے وقوف بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بات ہمارے سامنے آئی ہے اس پر ہمارا یہ تجزیہ ہے کہ سینئر ججوں نے بہترین فیصلہ دیا تاہم جونیئر ججوں کی اکثریت نے عوام سے مذاق کیا ہے، دو سینئر ججوں نے کہہ دیا ہے کہ نوازشریف صادق اورامین نہیں رہے۔ شریک چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو پتہ ہے کہ نواز شریف، شریف نہیں ہیں، اگر پاکستان نواز شریف کے ہاتھ میں محفوظ نہیں تو عمران خان کے ہاتھ میں بھی محفوظ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے مایوس ہوا، میری نظر میں تو عمران خان نے نواز شریف کو بچالیا، اگر اعتزاز احسن عدالت میں کھڑے ہوکر دلیل دیتے تو کوئی اور بات ہوتی۔ زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو نااہل کرنے والے ججز کو سلام پیش کرتا ہوں، مٹھائی بانٹنے والوں کو شرم آنی چاہئے کس بات کی مٹھائی بانٹی جا رہی ہے؟ پیپلز پارٹی دوبارہ کہتی ہے کہ آج پاکستان میں جمہوریت اور انصاف کو نقصان ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں عوام کو دھوکہ دیا گیا۔ عوام کی بیوقوف بنایا گیا۔ ہم اس فیصلے کو دوبارہ پڑھیں گے۔ اس کے بعد تفصیلی تبصرہ کرینگے۔ عمران خان ناتجربہ کار سیاستدان ہیں۔ ان کو پتہ نہیں نہ وہ کبھی جیل گئے ہیں اور نہ ہی ایف آئی آر میں کوئی بیان لکھوایا ہے۔ عمران خان کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ آپ سے ہم نے کہا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ آئیں۔ ہم مل کر پہلے قانون سازی کریں اور پھر اس قانون سازی کو لے کر سپریم کورٹ جائیں گے۔ انہوں نے ہماری بات نہیں مانی ۔ آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم دوسری جماعتوں کے لائحہ عمل اور عوام کی سوچ کو دیکھیں گے۔ عوام کی سوچ کو لے کر آگے چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی وہ فیصلہ کرے گی جو قوم کے مفاد ہو۔ قوم کے مفاد میں یہی ہے کہ میاں صاحب کو کسی بھی طریقے سے یہ باور کرا دیا جائے کہ آپ ناکام ہو چکے ہیں۔ خدا کے واسطے آپ کسی اور کو موقع دیں۔ ہم مولانا فضل الرحمن سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کو چھوڑ کر ہماری طرف آ جائیں گے۔ اس موقع پر سینٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ صادق اور امین نہ ہونے کے باعث 2 ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا ہے جبکہ باقی تین ججوں نے ان کی اس رائے کی تردید نہیں کی۔ 2 ججوں کی رائے دراصل سپریم کورٹ آف پاکستان کی رائے سمجھی جا سکتی ہے حالانکہ تین ججوں نے قوم کو مایوس کیا۔ جے آئی ٹی بنانا راہ فرار دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے بارے میں ہم پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ 1993ءسے سپریم کورٹ کی روایت یہ ہے کہ ان پر نرم ہاتھ دکھایا جاتا ہے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا یہ تجربہ بتاتا ہے اور آج ہمارا تجربہ سامنے آ گیا ہے کہ جب تک عدالت کے لئے حدود و قیود طے نہ کرا لیں اس وقت تک یہ عدالت میاں نوازشریف کا احتساب نہیں کر پائے گی۔
عمران /زرداری