چینی صدر کا دورہ پاکستان خطے کیلئے بھی بہت اہم، راہداری منصوبوں میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے: مبصرین

اسلام آباد (آن لائن) پاکستانی عہدیدار اور مبصرین چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کو نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ خطے کے لیے بھی خاصا اہم قرار دے رہے ہیں۔2013ء میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد چینی صدر کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔ انھوں نے گزشتہ برس آنا تھا لیکن پاکستانی حکام کے بقول اسلام آباد میں حکومت مخالف دھرنوں اور ملک میں جاری سیاسی بدامنی کے باعث یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان میں سب سے زیادہ توجہ اربوں ڈالر کے مجوزہ اقتصادی راہداری منصوبے پر مرکوز ہوگی۔ مبصرین اس منصوبے کو دونوں ملکوں کے علاوہ خطے میں ترقی و خوشحالی کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی نے امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس منصوبے سے اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہوگی جس سے بدامنی اور شورش پر قابو پانے میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ سے متعلق تنازعہ برقرار ہے اسے جتنا جلدی ممکن ہو دور کرنا چاہئے۔ روٹ میں تبدیلی چاہنے والوں کے خدشات دور ہونے چاہئیں، طویل المدت منصوبوں میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے۔ سینئر تجزیہ کار پروفیسر سجاد نصیر کہتے ہیں کہ چین پاکستان منصوبوں سے وہ خطے میں جہت تبدیل ہوتے ہوئے تو دیکھتے ہیں لیکن ان کے نزدیک امریکہ اور بھارت اس بارے کسی قسم کی مخالفت سے احتراز برتیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت چین اور امریکہ گلوبل استحکام کے بنیادی فریق ہیں اور وہ بڑی احتیاط سے ایک دوسرے کی طرف چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک پریشان کن بلے باز کی طرح نظر آ رہی ہے اور سکور بورڈ پر کچھ اور دکھا رہی ہے۔ میڈیا مہم کی بجائے حکومت کو اقتصادی راہداری کے حوالے سے پیچیدگیاں دور کرنی چاہئیں تھیں۔