پاکستانی سائبر کرائم بل آزادی اظہار کیلئے خطرہ ہے: ہیومن رائٹس واچ

اسلام آباد (اے ایف پی) ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کے دیگر گروپوں نے پاکستان میں سائبر کرائم کے بل کو آزادی اظہار اور پرائیویسی کیخلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے پارلیمنٹ سے اس بل کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک کمیٹی کی جانب سے منظور کئے گئے ’’الیکٹرونک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ 2015ئ‘‘ کو ووٹنگ کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت حکام کو کسی بھی جوڈیشل ریویو کے بغیر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے ڈیٹا تک رسائی کا اختیار مل جائے گا۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈویژن کے ڈائریکٹر فیلم کائن نے کہا کہ یہ بل عوام کے آن لائن سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات دور کرتا ہے نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کی عزت کرتا ہے۔ ڈیجیٹل حقوق کیلئے سرگرم گل بخاری نے کہا بل کے اندر مواد کے اسلام کے خلاف اور غیر اخلاقی ہونے کا فیصلہ عدالت کے بجائے متعلقہ اتھارٹی کے ہاتھ چلا گیا ہے۔ اس میں حکومت کو کسی بھی چیز کو اپنی مرضی سے ختم کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔