معلوم ہے مزدوروں کے تحفظ سے متعلق قانون سازی حکومتوں کی ترجیحات میں نہیں: سپریم کورٹ

معلوم ہے مزدوروں کے تحفظ سے متعلق قانون سازی حکومتوں کی ترجیحات میں نہیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (صباح نیوز) سپریم کورٹ نے سٹون کرشنگ سے ہونے والی اموات  کے خلاف از خود نوٹس  کیس کی سماعت کے دوران وفاقی و چاروں صوبائی سیکرٹریز قانون ،سیکرٹری لیبر اور سیکرٹریز منزلز سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں عدالت کو بتائیں  سٹون کرشنگ سے ہونے والی اموات کو روکنے اور ماحول کے حوالے سے  قوانین موجود ہیں یا نہیں، اگر قوانین موجود ہیں تو ان پر کتنا عمل درآمد  کیا جا رہا ہے؟ جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا  ہے کہ عدالت کو علم ہے کہ حکومتوں کی جانب سے کچھ نہیں کیا جائے گا لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ عدالت کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ عدالت کے پاس آسان اور مشکل دونوں  راستے موجود ہیں اگر آسان راستہ سے کام نہ چلا تو پھر مشکل راستہ اختیار کیا جائے گا ہمیں اس  راستہ پر  جانے کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔عدالت چاہتی ہے سٹون کرشنگ سے ہونے والی اموات کا سلسلہ رک جائے اور اس ضمن میں کوئی قانون بن جائے تاکہ شہریوں کی جانوں کاتحفظ یقینی بن سکے۔ سپریم کورٹ جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں پیر کو عدالت عظمی کے ڈویژن بینچ نے ملک بھر میں سٹون کرشنگ کے باعث انسانی جانوں  کے ضیاع کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔عدالت نے اپنے حکم میں چاروں صوبوں اور وفاقی حکومت کو ہدایت کی  کہ آئندہ سماعت پر عدالت کو فہرست سمیت تمام تفصیلات فراہم کریں۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو چاروں صوبوں کے لیبر سیکرٹریرز ماحولیات دیگر اعلیٰ حکام، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل  عدالت  پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں کوئی سٹون کرشگ فیکٹری موجود  نہیں۔ جس پر جسٹس شیخ عظمت سید نے کہا کہ اگر ہمیں پتہ چلا کہ اسلام آباد میں فیکٹری ہے تو پھر  ذمہ دار کون ہوگا۔ عدالت انسانی حقوق کے تخفظ کی بات کر رہی ہے۔ فیکٹریوں  کے ملازمین ایندھن نہیں کہ ان کو جلا کر ختم کر دیا جائے۔ پاکستان دنیا میں دوسرا بڑا ریگیولیٹڈ ملک ہے جہان ہر قسم کا قانون موجود ہے لیکن ان قوانین پر عمل نہیں ہوتا قانون کے مطابق عدالت نے حکومتوں کو مو قع فراہم کرنا ہے کہ وہ قانون سازی کریں لیکن عدالت کو یقین ہے کوئی کام نہیں ہوگا۔ جس دن پرچے کٹیں گے اور افسران جیل کی ہوا کھائیں گے تو کام ہوگا۔ کیونکہ عدالت کو علم ہے مزدوروں کے تخفظ کے حوالے سے قانون سازی حکومتوں کی ترجیحات میں نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ یہ میرا تجربہ ہے کہ کوئی کام نہیں ہوگا تاہم پھر بھی حکومتوں کو قانون سازی کے لیے وقت دے رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ایاز سواتی نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں 21کرشنگ فیکڑیاں ہیں اور ان کو ایک خاص علاقہ میں منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ جس پر جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ لوگوں کے کاروبار بند نہ کروائے جائیں۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا  کہ کرشنگ فیکٹریوں میں ڈاکٹرز موجود ہیں نہ اس شعبہ میں غفلت کے مرتکب افراد کے لیے کوئی قانون  موجود  ہے۔  صرف 500 روپے جرمانے اور چند ماہ کی سزائیں مروجہ قانون میں موجود ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ فیکٹری میں ڈاکٹر کی بات کر رہے ہیں  ہمارے  ہاں تو ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں ملتے۔ اکثر علاقوں میں صحت کی سہولیات دستیاب نہیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیاکہ صوبے  میں قانون پر عملدرآمد نہ کرنے والی فیکٹریاں بند کر دی گئی ہیں اور سندھ  میں متاثرین  کو معاوضہ  بھی دے رہے ہیں۔  عدالت نے استفسار کیا کہ کیا باقی صوبے بھی معاوضہ دے رہے ہیں تو پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل رزاق اے  مرزا نے بتایا کہ صوبے کے 18  میں سے 13 متاثرین کو تین لاکھ فی کس معاوضہ دے دیا گیا۔  بعدازاں عدالت نے  مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔