سینٹ: نیشنل ایکشن پلان کی کمزوریاں دور‘ عملدرآمد تیز کیا جائے: ارکان

سینٹ: نیشنل ایکشن پلان کی کمزوریاں دور‘ عملدرآمد تیز کیا جائے: ارکان

اسلام آباد (ایجنسیاں) سینٹ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے قومی ایکشن پلان کی کمزوریاں دور کرکے عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ارکان کے مطالبہ پر چیئرمین سینٹ نے کہا کہ وزیر داخلہ آئندہ سیشن میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی قرارداد پر ایوان میں جواب دیں۔ ارکان نے ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے عمل میں شفافیت ہونی چاہیے،  آپریشن ضرب عضب میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں،  دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مرکز اور صوبوں میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ ایکشن پلان کی اہم باتوں پر ابھی تک توجہ نہیں دی گئی۔ فاٹا میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، مارے جانے والوں کے کوائف سامنے آنے چاہئیں۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد قدر سست محسوس ہوتا ہے اس میں شفافیت ہونی چاہئے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں مرکز اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ الیاس بلور نے کہا کہ اگر حکومت ایکشن میں ہوتی تو لاہور کا واقعہ نہ ہوتا، صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہو سکی۔ قومی ایکشن پلان پر سختی سے عمل ہونا چاہئے۔ چوہدری تنویر خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم نے مل کر فیصلے کئے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اس ایجنڈے پر اتفاق کیا کہ ہمیں اس عفریت کو ختم کرنا ہے۔ میڈیا نے بھی دہشت گرد تنظیموں کا بائیکاٹ کر کے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان ریاست کے خلاف عمل پیرا تھی، اس کی جڑیں دور تک ہیں، اس لئے اسے فوری طور پر ختم کرنا مشکل ہے۔ آپریشن ضرب عضب نے زبردست کامیابیاں حاصل کیں۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے ایشو پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں ایک ہیں۔ قومی ایکشن پلان کے بیشتر حصوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ عثمان کاکڑ نے بھی قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کو سست قرار دیا اور کہا کہ اگر ایکشن پلان پر تیزی سے عمل ہوتا تو بلوچستان میں بہتری آتی۔ حافظ حمد اﷲ نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنی قراردادوں میں خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے لئے کہہ چکی ہے۔ ہمیں غور کرنا ہے کہ یہ انسداد دہشت گردی کی جنگ ہے یا فروغ دہشت گردی کی جنگ ہے۔ سسی پلیجو نے کہا کہ گذشتہ دور حکومت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا گیا۔ ضرب عضب آپریشن کی کامیابیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی اداروں کی کارکردگی مایوس کن ہے البتہ پاک فوج نے زبردست کردار ادا کیا ہے۔ جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی کچھ شقوں پر ہمیں اعتراضات ہیں۔ افغان جنگ لڑنا ہمارا غلط فیصلہ تھا، کچھ مدارس میں غلط سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر پوری قوم متفق ہے۔ مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ہر گھر میں ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا آج بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ صرف مذہبی دہشت گردی دہشت گردی نہیں، لسانیت، عسکریت، صوبائیت کی بنیاد پر دہشت گردی بھی دہشت گردی ہے۔ دہشت گرد خواہ مدارس سے تعلق رکھتا ہو یا کسی اور جگہ سے، اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ آئندہ سیشن میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی قرارداد پر ایوان میں جواب دیں۔ چیئرمین سینٹ نے پانی و بجلی کے وزیر کی عدم موجودگی کا بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ متعلقہ وزیر ایوان میں موجود نہ ہوئے تو قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ علاوہ ازیں ارکان نے ایل این جی کے معاملات خفیہ رکھنے پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت درآمد کے حوالے سے معاہدہ پارلیمنٹ میں لائے۔ دنیا میں اگر ایل این جی سستی موجود ہے تو قطر سے مہنگے داموں کیوں خریدی جا رہی ہے۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ گیس کا مسئلہ بروقت حل کر لیا جاتا تو آج بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو لوگ ملک کو لوٹتے رہے ان کو اس معاملے پر تکلیف ہے۔ قطر سے ہونے والے معاہدے کو پارلیمنٹ پیش کیا جائے گا۔ چیئرمین سینٹ نے معاملہ قائمہ کمیٹی پٹرولیم کے سپرد کر دیا۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ پاکستان کو گیس کی ضرورت ہے ایل این جی مہنگے فیول کی جگہ لے گی۔