سکواڈرن لیڈر حسن اختر کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف درخواست پر جواب طلب

اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سکواڈرن لیڈر حسن اختر کو بغیر کسی چارج شیٹ کے قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف درخواست کی سماعت ایک ہفتہ کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ سکواڈرن لیڈر حسن اختر کی اہلیہ ڈاکٹر فائزہ حسن نے کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے ذریعے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی۔ ابتدائی سماعت پر عدالت نے سیکرٹری دفاع اور ڈائریکٹر ائیر انٹیلی جنس کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر کسی ذمہ دار افسر کو پیش کیا جائے جو عدالت کو معاملے سے آگاہ کر سکے۔ فلائٹ لیفٹیننٹ اسد پیش ہوئے اور تحریری جواب داخل کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ سکواڈرن لیڈر حسن اختر پر جاسوسی کا سنگین الزام ہے اور ان کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے۔ سکواڈرن لیڈر حسن اختر کو مارچ میں قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا۔ وکیل کرنل انعام الرحیم نے کہا کہ ائر فورس ایکٹ کے تحت کسی بھی حاضر سروس افسر یا سپاہی کو بغیر چارج شیٹ گرفتار نہیں کیا جا سکتا اور اگر چارج شیٹ نہ کیا گیا ہو تو گرفتاری کے بعد 48 گھنٹوں میں چارج شیٹ کرنا لازمی ہے۔ کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے جواب کا جائزہ لینے اور دلائل پیش کرنے کے لئے عدالت سے مہلت طلب کی جس پر فاضل جج نے ایک ہفتہ کے لئے سماعت ملتوی کر دی۔