اکنامک کوریڈور منصوبوں میں سے بیشتر 2018ء تک مکمل ہو جائیں گے

اسلام آباد (عترت جعفری) پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کیلئے یہ کوئی راز نہیں ہے کہ 2018ء اہم سال ہو گا کیونکہ پاکستان، چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی بیشتر تعداد اس سال مکمل ہونے کے بعد ثمر دینا شروع کر دیگی اور یہی سال انتخابات کا سال بھی ہو گا۔ پاک چین 51 معاہدوں میں سے 30 کا تعلق اکنامک کوریڈور سے ہے۔ چینی سرمایہ کاری تو سارے ملک میں ہو گی تاہم میگا سرمایہ کاری کا تعلق خطے کی سب سے اہم بندرگاہ ’’گوادر‘‘ کے حوالہ سے ہے۔ پاک چین اکنامک کوریڈور کو اگر ’’گیم چینجر‘‘ کہا جا رہا ہے تو اسکی روح گوادر ہے۔ ’’گوادر‘‘ کے دروازے پر ترقی دستک دے رہی ہے تاہم اسکے روشن مستقبل کا تمام تر انحصار پورے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں امن و امان سے منسلک ہے۔ حکومت پاکستان کو امن و امان کیلئے تمام سیاسی‘ آئینی اور قانونی راستے استعمال کرنا پڑیں گے۔ بعض نقادوں نے اگرچہ چینی سرمایہ کاری کی لاگت کو مہنگا قرار دیا ہے اور انکا کہنا ہے کہ 46 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا بوجھ ملک کی معیشت کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے تاہم پاکستان جیسے ملک میں جہاں امریکہ‘ یورپ سمیت کوئی ملک آگے بڑھ کر سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ چینی سرمایہ کاری نعمت سے کم نہیں ہو گی۔ اس سے انفراسٹرکچر اور 8370 میگاواٹ بجلی کی پیداوار سے وہ بنیاد فراہم ہو جائیگی جس کی مدد سے پاکستان درمیانی مدت میں 6 سے 8 فیصد تک کی گروتھ حاصل کر لے گا جو خطہ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے 90 ملین افراد کو بہتر زندگی دینے کیلئے ضروری ہے۔