گندم اور اس کی مصنوعات کی درآمد پر 25‘ دھاتی اشیا پر 12.5 فیصد ڈیوٹی کی منظوری

اسلام آباد(آن لائن) کابینہ  کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی) نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے ایک اجلاس میں نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2015 کی منظوری دیدی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گندم اور اسکی مصنوعات کی درآمد پر 25 فیصد یکساں ریگولیٹری ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ اجلاس میں پنجاب اور سندھ میں گندم کی برآمد کیلئے ایک ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔ اجلاس میں دھاتی اشیاء کی درآمد پر بھی 12.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی وصول کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ  نے  پاکستان  مشین  ٹول  فیکیڑی  کے ملازمین  کے  لئے  3 ماہ  کی  تنخواہ  کی  منظوری  دی  ہے۔ اجلاس  میں گندم  اور  دیگر مصنو عات کی  درآمد پر  25فیصد ریگولیڑی  لگانے  کا   فیصلہ کیا گیا اور اسکی منظوری دی گئی۔ پنجاب اور سندھ  کے  لئے  گندم   کی برآمدت  میں ایک  ماہ  کی توسیع کر دی گئی ہے۔ پنجاب میں 15 اپریل سے 15 مئی تک جبکہ سندھ 31 مارچ سے 30 اپریل تک گندم برآمد کر سکے گا۔ اس  کے علاوہ ہاٹ رول،   پائپ  اور  دیگر  منصوعات  پر 12   فیصد   ریگو لیٹری  ڈیوٹی   لیوی    مقرر  کرنے کا    بھی  منظوری  دی  گئی۔ اعلامیہ کے مطابق ای سی سی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں ایک لاکھ 30 ہزار ٹن کارگو ہینڈل کرنے کی صلاحیت ہے، کارگو ہینڈل کرنے کی صلاحیت دگنی کی جائیگی۔ اجلاس میں گندم کی خریداری کیلئے 222 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں شہری ہوابازی پالیسی کے مسودے پر غور کیا گیا اور اتفاق رائے سے اس کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم کے شہری ہوابازی کے معاون خصوصی شجاعت عظیم نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹی جسامت کے ہوائی جہاز چھوٹے شہروں کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔ کارگو سہولت بڑھائی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی بجٹ کے اعلان میں محض دو ماہ رہ گئے ہیں جس میں شہری ہوابازی کی نئی پالیسی کے تحت ترغیبات کا اعلان کیا جائے گا۔ ای سی سی نے مشین ٹول فیکٹری کے ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہیں دینے کیلئے 96 ملین روپے کی منظوری بھی دیدی۔ ای سی سی نے شمسی توانائی پر مبنی منصوبوں کیلئے ایس پی اے معاہدوں کی بھی منظوری دی ہے۔ ای سی سی اقوام متحدہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ذریعے شمالی وزیرستان اور کے پی کے کے نقل مکانی کرنے والے افراد کیلئے 40 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی بھی منظوری دیدی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال گندم کی خریداری کیلئے 222 بلین روپے کی ضرورت پڑے گی۔ پاسکو اور صوبے مل کر 66 لاکھ ٹن گندم خریدینگے۔ اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کی تجویز پر کول پاور پراجیکٹس کے سٹینڈرڈائز سکیورٹی دستاویز کی بھی منظوری دیدی۔