نیشنل پارک کیس: عدالتی حکم کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں: جسٹس جواد

اسلام آباد( نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں سٹون کرشنگ، درختوں کی کٹائی کے خلاف عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے 25اکتوبر 2013ء کے حکم کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے گا، عدالت نے کسی سیمنٹ فیکٹری کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا البتہ مارگلہ پارک کی حدود میں کسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ،جو عدالتی حکم کے دائر میں آتے ہیں وہ اس بات کا خیال رکھیں کوئی چیز سپریم کورٹ کے حکم سے بالا نہیں اور جو اس حدود میں نہیں آتے عدالت کو ان سے کوئی غرض نہیں عدالت کے کندھوں پر بندوق رکھ کر نہ چلائی جائے،وکیل اعتزاز حسین نے کہا کہ سیمنٹ فیکٹری پرسی ڈی اے نے آپریشن کرکے اسے بند کردیاسپریم کورٹ کا نام استعمال کیا گیا جبکہ فیکٹری ماگلہ ہلز پارک کی حدود میں نہیں آتی 14ارب مالیت کی فیکٹری ہے 30سال سے پانچ ہزار سے زائد ملازمین کام کررہے ہیں وہ سپریم کورٹ کا نام استعمال کرکے کارروائی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کا کیس دائر کریں گے،عدالت معاملے کی تحقیقات کے لے ایک کمیٹی تشکیل دے۔  جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدالت کا مقصد ہے کہ اس کے 25اکتوبر2013 کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو،جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت نے خصوصاً کسی فیکٹری کے خلا ف کارروائی کا حکم نہیں دیا ۔