لاپتہ افراد سے متعلق ایک جیسے مقدمات الگ بنچ میں لگانے کی ہدایت، نصراللہ بلوچ کو سہولتیں نہ ملنے پر سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل کی سرزنش کر دی

لاپتہ افراد سے متعلق ایک جیسے مقدمات الگ بنچ میں لگانے کی ہدایت، نصراللہ بلوچ کو سہولتیں نہ ملنے پر سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل کی سرزنش کر دی

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں بلوچستان خضدار میں اجتماعی قبروں کا معاملہ اٹھانے والے نصر اللہ بلوچ کی درخواست سے متعلق مقدمہ کی سماعت میں عدالت نے لاپتہ افراد سے متعلق ایک نوعیت کے مقدمات کو ایک بنچ تشکیل دیکر لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت مارچ کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔ وائس آف بلوچ ہیومن رائٹس کمشن کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ کے حوالے سے ایڈیشنل ایڈووکینٹ جنرل بلوچستان فرید ڈوگر نے بتایا کہ درخواست گزار کو مقدمہ میں پیش ہونے کے اخراجات بلوچستان حکومت فراہم کررہی ہے جبکہ عدالت میں موجود نصر اللہ نے عدالت کو بتایا کہ جب وہ ایئرپورٹ پہنچے تو انہوں نے بلوچستان ہائوس رابطہ کیا اور سپریم کورٹ تک گاڑی فراہم کرنے کا کہا جس پر جواب دیا گیا کہ گاڑی نہیں خود ہی آجائو جبکہ بلوچستان ہائوس آنے پر بتایا گیا کہ کمرہ نہیں ہے شام چار بجے تک بیٹھا رہا پھر رہائش کا بندوبست ہوا۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے سن ہی لیا کہ کیا سہولیات فراہم کی جا رہیں رکشہ میں آنے کا کہا جاتا ہے، نصر اللہ بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی تعداد 105نہیں بلکہ ہزاروںمیں ہے، وہ آئندہ سماعت پر ناموں کی فہرست پیش کریں گے۔