ارکان پارلیمنٹ کے وزارت ہائوسنگ اور پانی و بجلی کے منصوبوں کی تفصیلات نہیں ملیں: وزارت خزانہ

اسلام آباد(آئی این پی) پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کو وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کے وزارت ہائوسنگ اور پانی و بجلی کے منصوبوں کی تفصیلات وزارت خزانہ کو نہیں ملی ہیں،آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ 25سال قبل انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بنک کے 9کروڑ 71 لاکھ روپے کے قرضوں کی وصولی نہ ہو سکی، اربوں روپے کے ٹیکس لینے والا ایف بی آر زرعی ترقیاتی بنک کا 20 برس سے 29کروڑ 71لاکھ روپے کا نادہندہ نکلا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر شاہدہ اختر علی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ وزارت خزانہ کے آڈٹ اعتراضات برائے 1998-99کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی میں بتایا کہ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے 25سال قبل دیئے گئے 9 کروڑ 71 لاکھ روپے کے قرضے دیئے جو تاحال واپس نہیں کئے گئے۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ زرعی ترقیاتی بنک نے 29کروڑ 71لاکھ روپے اٹارنی جنرل کے فیصلے کی مد میں ٹیکس کی رقم ایف بی آر سے لینی ہے مگر ایف بی آر یہ رقم زرعی ترقیاتی بنک کو ادا نہیں کر رہا۔ سیکرٹری نے کہاکہ وہ ذاتی طور پر چیئرمین ایف بی آر سے بات کریں گے۔ کمیٹی نے ایک ماہ میں معاملہ نمٹانے کی ہدایت کر دی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ زرعی ترقیاتی بنک نے 25نادہندگان سے 32لاکھ سے زائد کی رقم 18سالوں سے وصول نہین کی اور نہ سود کی مد میں ادائیگی ہوئی جس کی وجہ سے یہ رقم بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کمیٹی میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیاکہ فیڈرل بنک فار کوآپریٹو میں ایک 95لاکھ کے گھپلے کے کیس میں نیب اور ایف آئی اے کی لڑائی کے باعث ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں سکی۔ نیب حکام نے بتایا کہ یہ کیس نیب کو دو برس کے لئے ملا اور پھر اسی نوٹیفیکیشن کو ڈی نوٹیفائی کرکے کیس ایف آئی اے کو دے دیا اور اس کے دو دن بعد ملزم بری ہوگیااور ایف آئی اے نے اس کی پیروی نہیں کی۔ سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ ارکان پارلیمنٹ کے وہ منصوبے جو جاری ہیں مگر مکمل نہیں ہوسکے، انہیں مکمل کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے جبکہ وزارت پٹرولیم سے متعلق تمام منصوبوں کی فہرست حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم کو بھجوا دی ہے۔