ڈرون حملے کا آپریشن سے تعلق نہیں‘ افغانستان نے ’’ضرب عضب‘‘ پر تعاون کی یقین دہانی کرا دی : پاکستان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے افغانستان نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے سلسلہ میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ طاہر القادری  کی پاکستان واپسی رکوانے کی بات قیاس آرائی ہے، کسی سطح پر ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ عراق میں پاکستانی شہری خیریت سے ہیں۔ ترجمان  نے یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا چین کی جیلوں میں  281 قیدی موجود ہیں۔ ان میں سے نوے فیصد منشیات کی سمگلنگ اور  غیرقانونی تجارت کے باعث زیر حراست ہیں۔ ایک پاکستانی قتل کے الزام میں اور متعدد غیر قانونی قیام اور فراڈ جیسے  الزامات کے تحت قید ہیں۔ ترجمان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے وہاں جاری کارروائی سے مربوط تھے۔ ہم کسی صورت ڈرون حملے  برداشت نہیں کر سکتے۔ پاکستان نے ڈرون حملوں کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا افغان حکام نے شمالی وزیرستان آپریشن  کے ضمن میں اپنی طرف سے تعاون کا مکمل یقین دلایا ہے۔ سیاسی سطح پر ہم نے یہ معاملہ اٹھایا ہے اس وقت  پاکستان افغان سرحد کی بہتر مینجمنٹ اور کنٹرول کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے ان خبروں کو قیاس آرائی قرار دے کر مسترد کر دیا  وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کینیڈا کے ہائی کمشنر سے کہا ہے  طاہر القادری کو پاکستان نہ آنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا طارق فاطمی تو وزیر اعظم کے ساتھ تاجکستان میں تھے البتہ اس سے قطع نظر نہایت واضح روایات تو یہی ہیں ایک ملک کا شہری کسی ایسی سرگرمی میں حصہ نہ لے جو دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ٹھہرے۔ انہوں نے کہا پاکستان اور روس نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے  کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ہمارے تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں اطراف سے باہمی دورے ہو رہے ہیں۔ ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے سرتاج عزیز  ماسکو جا رہے ہیں جہاں ان کی روسی ہم منصب کے ساتھ بھی ملاقات ہو گی۔ ترجمان نے کہا انہیں علم نہیں کہ  وزیر اعظم کے دورہ تاجکستان کے موقع پر  تاجک  شدت پسندوں کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی کا معاملہ زیر غور آیا یا نہیں۔ ترجمان نے بتایا عراق میں پاکستانی سفارتخانہ کے مطابق  وہاں کی صورتحال کے باعث کسی پاکستانی کے مشکل میں پڑنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ اکثر پاکستانی  شورش زدہ علاقہ سے باہر ہیں۔ ہمارا سفارتخانہ ہم وطنوں کے ساتھ رابطہ میں ہے اور ان کے تحفظ کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا ملا فضل اللہ  کا معاملہ کئی مرتبہ افغانستان کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔ ہم نے اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا عزم کیا ہوا ہے، اسی طرح  توقع ہے کہ افغانستان بھی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف نہیں استعمال ہونے دے گا۔ ترجمان نے کہا  ہمیں عراق کی صورتحال پر تشویش ہے۔ ہم ایک متحدہ اور مضبوط عراق  دیکھنا چاہتے ہیں اور امید کی جاتی ہے  عراق اس صورتحال پر جلد قابو پا لے گا۔ انہوں نے کہا خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر بات چیت کیلئے پاکستان اور بھارت باہم رابطہ میں ہیں۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے بدھ کو ہونے والے ڈرون حملے کا شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا ڈرون حملے عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کا مسئلہ افغانستان سے اٹھایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ ترجمان نے کہا دونوں مملک مل کر ہی انتہا پسندی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آن لائن کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے طا لبا ن کما نڈر  مولوی فضل اللہ کی  پاکستا ن مخا لف  کارروائیوں کا معاملہ افغان حکام سے اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان  کیخلاف استعمال نہ ہونے دے، دونوں ممالک مل  کر ہی دہشت گردی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔  ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے کہا وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے مختلف چینلز پر افغان حکام سے رابطے کئے گئے۔