قومی اسمبلی: سعد رفیق کے بیان پر مسلم لیگ ن، متحدہ کے ارکان میں ’’جھڑپ‘‘

اسلام آباد (ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں سانحہ ماڈل ٹائون کے کر دار گلو بٹ کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ایم کیو ایم کے ساجد احمد نے وزارت داخلہ سے متعلق کٹوتی کی تحریک پر بحث کے دوران کہاکہ مسلم لیگ (ن) نے عسکریت پسند پال رکھے ہیں جن کا سربراہ گلو بٹ ہے، خواجہ سعد رفیق ہمارے قائد پر احسان فراموشی کا الزام لگاتے ہیں اس پر وزیرمملکت عابد شیر علی غصے میں اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور ڈپٹی سپیکر سے بولنے کی اجازت چاہی ڈپٹی سپیکر نے عابد شیر علی کو بولنے کی اجازت دی تو ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور اپوزیشن ارکان ’’نو نو‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا اور ڈیسک بجاتے ہوئے بیٹھ جائو،  شیم شیم کے نعرے لگائے ارکان کی نعرے بازی اور شور شرابے سے ایوان ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگیا ڈپٹی سپیکر نے ارکان کو بار بار خاموش رہنے کی ہدایت کی مگر ارکان کھڑے ہو کر احتجاج کرتے رہے اسی شور شرابے میں عابد شیر علی نے کہاکہ اگر ہم نے کسی پارٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی بات دور تک جائے گی لہذا ڈسپلن سے بات کر یں کوئی الزام تراشی نہ کریں غنڈہ گردی نہیں چلے گی جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا اس دور ان وفاقی وزیر زاہد حامد ایم کیو ایم کے ارکان کی نشستوں پر گئے اور انہیں اپنی نشستوں پر بٹھایا تاہم اس دور ان ایم کیو ایم کے کسی رکن کے فقرے پر عابد شیر علی مشتعل ہوگئے اور وہ ایم کیوایم کے ارکان سے ہاتھا پائی کر نے کیلئے اپوزیشن نشستوں کی طرف جانے لگے تو وزیر مملکت داخلہ انجینئر بلیغ الرحمن اور دیگر حکومتی ارکان انہیں روک لیا عابد شیر علی کے اس رویئے پر ایم کیو ایم کے ارکان سمیت جمشید دستی بھی حکومتی بینچوں کی طرف بڑھے جنہیں اپوزیشن دیگر ارکان نے آگے بڑھنے سے روک دیا ڈپٹی سپیکر نے عابد شیر علی کا مائیک بند کروا کر ایم کیو ایم کے ساجد احمد کو بولنے کا موقع دیا تو ساجد احمد نے کہاکہ جب تک خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ (ن) میں ہیں کسی باہر کے آدمی کو ان کی حکومت گرانے کیلئے آنے کی ضرورت نہیں خواجہ سعد رفیق یہ کام کر نے کیلئے کافی ہیں یہ ہنگامی آرائی ساجد احمد کی تقریر ختم ہونے تک جاری رہی ساجد احمد کی تقریر کے بعد بھی ارکان نے گلو بٹ کا ذکر ایوان میں جاری رکھا تحریک انصاف کے رائے حسن نواز نے کہاکہ ایوان کو بتایا جائے کہ گلو بٹ کے پیچھے کون سی طاقت تھی جو اس نے یہ کام کیا۔ پیپلز پارٹی کے نعمان اسلام شیخ نے کہاکہ گلو بٹ کا نک نیم وزیر خزانہ اسحاق ڈار جانتے تھے اور مسلم لیگ (ن) والے کہتے ہیں کہ اسے نہیں جانتے پیپلز پارٹی کے احسان الحق مزاری نے کہاکہ اسلام آباد میں چند ماہ پہلے سکندر آیا تھا کیا وہ گلو بٹ کا رشتہ دار تھا جس نے آٹھ گھنٹے اسلام آباد کو یرغمال بنائے رکھا۔