حکومت اقلیتوں کیلئے ٹاسک فورس‘ خصوصی پولیس اور قومی کونسل بنائے: سپریم کورٹ

حکومت اقلیتوں کیلئے ٹاسک فورس‘ خصوصی پولیس اور قومی کونسل بنائے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے پشاور میں چرچ پر حملے کیلاش قبیلے اور چترال میں اسماعیلیوں کو درپیش خطرات کے بارے میں از خود نوٹس کیس نمٹاتے ہوئے حکومت کو مذہبی برداشت کی حکمت عملی تشکیل دینے کیلئے ٹاسک فورس کے قیام، مذہبی اور سماجی برداشت کو فروغ دینے کیلئے مناسب نصاب کی تشکیل، سماجی میڈیا پر نفرت آمیز تقاریر کی حوصلہ شکنی اور ایسا کرنے والے کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے ضروری اقدامات کرنے، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے لئے سفارشات کیلئے قومی کونسل اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے خصوصی پولیس فورس کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فیصلہ پر عملدآمد کی نگرانی تین رکنی بنچ کرتا رہے گا۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ جاری کیا جو خود چیف جسٹس نے تحریر کیا ہے۔ 82 صفحات پر مشتمل فیصلے کا آغاز اس حدیث سے کیا گیا ہے جس میں  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر،کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے اور کسی کالے کو کسی گورے پر فوقیت حاصل نہیں بلکہ اعلیٰ مرتبے کا معیار تقویٰ ہے۔فیصلے کے آخر میں دئیے گئے آرڈر میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ ایک ٹاسک فورس تشکیل دے جو مذہبی برداشت کی حکمت عملی بنائے، سکولوں اور کالجوں کی سطح پر مذہبی اور سماجی برداشت کو فروغ دینے کیلئے مناسب نصاب تشکیل دیا جائے۔ 1981ء میں اقوام متحدہ نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر امتیاز کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے ہر بچے کو بھی تحفظ دیا جائے، لوگوں کے درمیان برداشت، مفاہمت اور دوستی کے جذبے کے ساتھ ساتھ امن وعالمی اخوت،دوسروں کے مذہب وعقائد کی آزادی کا احترام اور انسانیت کی خدمت کیلئے تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں استعمال کی جائیں۔ اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں قومی کونسل تشکیل دی جائے،اس کونسل کا کام آئین اور قانون کے تحت اقلیتوں کو دئیے گئے حقوق اور ضمانتوں پر نظر رکھنا اور اس کیلئے عملی اقدامات ہونے چاہئیں،کونسل کو یہ بھی اختیار دینا چاہئے کہ وہ صوبائی اور وفاقی حکومت کو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پالیسی سفارشات پیش کرے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خصوصی پولیس فورس تشکیل دی جائے جسے اقلیتوں کی عبادتگاہوں کے تحفظ کیلئے خصوصی پیشہ وارانہ تربیت دی جائے۔ اٹارنی جنرل پنجاب، خیبر کے پی کے اور بلوچستان کے ایک ایڈیشنل ایڈوکیٹس جنرل کے ان بیانات کی روشنی میں کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اقلیتوں کیلئے کوٹہ مخصوص ہے عدالت ہدایت دیتی ہے کہ وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتیں تمام سروسز میں اقلیتوں کے کوٹے کو پالیسی ہدایات کے مطابق یقینی بنائیں۔قانون میں جن حقوق کی ضمانت دی گئی ہے ان کی خلاف ورزی یا اقلیتوں کی عبادتگاہوں کی بے حرمتی پر قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ وہ ملزموں کیخلاف فوجداری مقدمات کے اندراج سمیت تمام ضروری اقدامات کریں۔ دفتر تین رکنی بنچ کیلئے ایک الگ فائل کھولے گا تاکہ اس فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے بنچ ملک بھر میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں ہر قسم کی شکایات اور درخواستوں کی سماعت بھی کرسکتا ہے۔