ائیر یونیورسٹی کے طلباء نے سولر پاور سے ڈرون طیارہ تیار کرلیا

راولپنڈی (ثناء نیوز) غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ کے امریکن انسٹی ٹیوٹ آف ایروناٹکس اینڈ آسٹروناٹکس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ڈی بی ایف سی مقابلوں میں شمسی توانائی پر کام کرنے والی معتبرپاکستانی کمپنی ٹیکسلا کی فنی معاونت سے ائیر یونیورسٹی کے طلباء نے سولر پاور سے بغیر پائلٹ اڑنے والے پہلے پاکستانی جہاز یو ۔ اے ۔ وی۔ کی اڑان کا کامیاب تجربہ کرکے مقابلے میں کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔ یہ مقابلہ جیتنے والی ائیر یونیورسٹی کے طلباء کی ٹیم میں عبداللہ طارق ، اسامہ گیلانی ، عبداللہ محمود اور غلام جہانیاںکا تعلق شعبہ الیکٹریکل انجنئیرنگ اور یاسر علی کا تعلق شعبہ مکینیکل اینڈ ایرو سپیس انجنئیرنگ سے ہے۔ ٹیم کے کام کی نگرانی یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل انجنئیرنگ کے انجنئیر سہیل خالد اورانسٹی ٹیوٹ آف اویونک اینڈ ایروناٹکس کے ڈاکٹر ابراہیم حنیف نے کی ۔ غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ یہ مقابلے 2005 سے منعقد کروا رہاہے اور اس سال ہونے والا یہ نواںمقابلہ تھا۔ سولر پاور پر بغیر کسی پائلٹ کے اڑائے جانے والے اس ڈرون کی تیاری میں سب سے بڑا چیلنج ڈرون کے پروں میں سولر سیلوں کو اکٹھا کرنا تھا اور اس مشکل ترین کام کے پیش نظر پورے پاکستان سے اس مقابلے کیلئے صرف چار ٹیموں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ڈرون کی تیاری کیلئے اس سب سے بڑے چیلنج سے عہدہ برآء ہونے کیلئے طلباء کو ٹیکسلا سولر پی وی ٹیکنالوجیز کی معاونت حاصل کرنا پڑی جس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر حسین نے ڈرون کے پروں میں سولر سیلوں کو جمع کرنے کو ممکن بنانے میں اپنی فنی مہارت پیش کی۔ اب تک پاکستان میں جتنے بھی مقابلے ہوئے ہیں ان میں یہ سولر پاور سے چلنے والا پہلا کامیاب ڈرون ہے۔