آزاد کشمیر گلگت بلتستان کو الگ حیثیت کے باوجود اسلام آباد سے ڈکٹیٹ کیا جا رہا ہے : سینٹ انسانی حقوق کمیٹی

 اسلام آباد (ثناء نیوز) سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق  نے قرار دیا ہے کہ  آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان دنوں کی الگ الگ حیثیت ہے لیکن بد قسمتی سے دونوں کو اسلا م آباد سے ڈکٹیٹ کیا جاتا ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے گلگت بلتستان کی داخلی خود مختاری میں مزید بہتری کے لئے سفارشات مرتب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ داخلی خود مختاری کے بارے میں صدارتی حکمنامہ 2009 میں ترامیم سے متعلق تجاویز مرتب کرنے کیلئے سینیٹر رضا ربانی، مشاہد حسین، فرحت اللہ بابر اور نسرین جلیل پر مشتمل 4 رکنی سب کمیٹی قائم کی گئی  ہے ۔ کمیٹی کو دو ماہ میں رپورٹ تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے ۔  وزارت امور کشمیر گلگت بلتستان  نے سب کمیٹی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروا دی ہے ۔ کمیٹی نے سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے خواتین کے حقوق سے متعلق تاحال صوبائی کمیشنوں کے قیام میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں صوبائی حکومتوں کو اس بارے میں خط ارسال کردیئے ہیں ۔ کمیٹی نے وفاقی حکومت کو شمالی وزیرستان ایجنسی کے آپریشن سے متاثرہ افراد کیلئے خیبر پی کے حکومت کے اشتراک سے انتظامات کی سفارش کی ہے۔ فنکشنل کمیٹی برائے  انسانی حقوق کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین سینیٹر افراسیاب خٹک کی صدرت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا ۔ کمیٹی کو گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی صورت حال اور ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات اور ان واقعات کی موجودہ شرح کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں الیکشن کمیشن کے قیام کے قواعد و ضوابط بن چکے ،,آئندہ ماہ با اختیار الیکشن کمیشن قائم ہو جائے گا ۔ اسلام آباد میں بھی خواتین پر تشدد کے واقعات بڑھ گئے ہیں ۔ گزشتہ سال صرف 14 واقعات ہوئے جبکہ اس سال 42 واقعات کے مقدمات درج ہو چکے ہیں ۔ کمیٹی نے گلگت بلتستان کے لئے پی آئی اے کی پروازوں میں اضافے کی سفارش کی ہے۔ سیکرٹری شاہد اللہ بیگ نے بتایا کہ آئندہ ماہ سے ان پروازوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ کمیٹی نے نجی فضائی کمپنیوں کو بھی گلگت بلتستان کے لئے فضائی آپریشن کی سفارش کی،, کمیٹی نے اتفاق رائے سے علاقے کی داخلی خودمختاری میں بہتری کے لئے صدارتی حکمنامے میں ترامیم کے لئے ٹرم آف ریفرنس سے متعلق  تجاویز دے دی ہیں ۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کو لولی لنگڑی وزارت بنانے کے بجائے اسے مضبوط کیا جائے اور رپورٹس کی تیاری کے لئے کنسلٹنٹس پر انحصار نہ کیا جائے جو اپنی نوکری پکی کرنے کیلئے اپنی مرضی اور منشا کے مطابق رپورٹس تیار کرتے ہیں ،, کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا تھا کہ پولیس آرڈر 2002 ء تاحال گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں نافذ نہیں ہوا ہے ۔ فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ  میں نے خود گلگت بلتستان 2009 آرڈر کو بہتر بنانے کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ملک میں عدم برداشت بڑھ رہا ہے ، قادری اور طالبان کی صورت میں بنیاد پرست معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شما لی وزیرستان میں آپریشن کی حمایت کی ہے۔. حکومت بے گھر خاندانوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لے ۔  کمیٹی نے حکومت کو آپریشن ’’ ضرب عضب‘‘ کے متاثرین کے لئے ایف آر کے بجائے محفوظ بندوبستی علاقوں میں کیمپ قائم کرنے کی سفارش کر دی۔
قائمہ کمیٹی