مشرف پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے: سینٹ کی متفقہ قرارداد‘ باہر گئے تو حکومت ذمہ دار ہو گی: ارکان

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) سینٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کرنے کیلئے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد مسلم لیگ (ن) کے سےنیٹر اسحاق ڈار نے پیش کی۔ قرارداد میں سرکاری عمارتوں سے پرویز مشرف کی تصاویر ہٹانے اور 23 جنوری 2012ءکو سینٹ کی منظور کردہ قرارداد پر عملدرآمد یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں اور قوم پرست ارکان نے اجلاس دوبارہ بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرا دی۔ ارکان نے واضح کیا کہ اگر مشرف کو ملک سے باہر بھیجا گیا تو حکومت قوم کو جوابدہ ہو گی۔ اجلاس میں لاہور اور سندھ ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تفصیلات پیش کی گئیں جبکہ اسلام آباد اور پشاور ہائیکورٹ نے زیر التوا مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے سے معذرت کر لی۔ سینٹ کا اجلاس چیئرمین نیئر حسین بخاری کی زیرصدارت شروع ہوا۔ مشرف کے عدالت سے فرار پر سینٹ میں تحریک پیش کی گئی۔ تحریک پیپلز پارٹی کے سےنیٹر فرحت اللہ بابر نے پیش کی۔ سینےٹ میں پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے سےنیٹر اسحاق ڈار نے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں سرکاری عمارتوں سے پرویز مشرف کی تصاویر ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسحاق ڈار کی قرارداد کی کسی نے مخالفت نہ کی۔ سینےٹ کی پیش کی گئی قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ 23 جنوری 2012ءکو سینٹ کی منظور کردہ قرارداد پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ چیئرمین سینٹ نے رولنگ دی کہ پرویز مشرف کے جرائم میں قانون کو اپنا راستہ اپنانا ہو گا، کسی قسم کی رورعایت برداشت نہیں کی جائے گی۔ مشرف کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانا ہو گا۔ واضح رہے کہ سینٹ مےں پرویز مشرف کو گرفتار کرنے اور غداری کا مقدمہ چلانے کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ بڑی سیاسی جماعتوں اور قوم پرستوں نے ایوان بالا کا اجلاس دوبارہ بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرا دی۔ ان جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجا گیا تو حکومت قوم کو جوابدہ ہو گی۔ حکومت کا سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو جیل نہ بھجوانے کے معاملے پر جواب غیر تسلی بخش ہے۔ وزیر داخلہ پر کوئی دبا¶ ہے تو ایوان بالا کو آگاہ کریں۔ جمعہ کو ریکوزیشن جمع کرانے کے بعد پارلیمنٹ ہا ¶س کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سےنیٹر اسحاق ڈار ،سےنیٹر رضا ربانی اور سےنیٹر زاہد خان نے کہا کہ پرویز مشرف کو ہتھکڑیاں نہ لگانے پر پوری قوم تشویش میں مبتلا ہے۔ پرویز مشرف قومی مجرم ہے، غداری کا مقدمہ درج کرانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ سےنیٹر رضا ربانی نے کہا کہ نگران حکومت پرویز مشرف کو بلا جواز پروٹوکول دے رہی ہے۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے خلاف حکومتوں نے جو سلوک کیے تھے آج سابق فوجی آمر کو ہتھکڑی لگانے سے حکومت بتائے کس کے دبا¶ پر گریز کر رہی ہے۔ تینوں جماعتوں کے رہنما¶ں نے واضح کیا کہ پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجا گیا تو نگران حکومت پوری قوم کو جوابدہ ہو گی۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ پرویز مشرف کو خفیہ ایجنڈے کے تحت ریلیف دینے کی کوشش کی گئی تو قوم اسے کسی صورت تسلیم نہیں کرےگی۔ انہوں نے کہا نگران حکومت ہمت کرے قوم اس کی پشت پر ہے۔ اجلاس کےلئے ریکوزیشن دےدی ہے، چیئرمین بغیر کسی تاخیر کے سینٹ کا اجلاس طلب کریں۔ سینیٹر بابر اعوان نے کہا کہ پرویز مشرف کی گرفتاری نمائشی ہے گھروں میں بیٹھے لوگوں کو گرفتار نہیں کہا جا سکتا۔ رضا ربانی نے کہا کہ پرویز مشرف نے ہماری عدلیہ کو تہس نہس کیا۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ مشرف کمانڈو ہیں، دشمن کے پیچھے تیز بھاگیں گے۔ مشرف نے اپنی کمانڈو ٹریننگ عدالت سے بھاگنے میں استعمال کی۔ مشرف کے گھر کو سب جیل قرار دینے کا فیصلہ کس کا تھا ایوان کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ زاہد خان نے کہا کہ پرویز مشرف سمیت تمام پاکستانی شہریوں کیلئے ایک جیسا قانون ہونا چاہئے۔ اگر نگران وزیر داخلہ پر کوئی دباﺅ ہے تو سینٹ کو بتائیں۔ چیئرمین سینٹ نے وزیر داخلہ کی عدم حاضری پر 15 منٹ کیلئے اجلاس ملتوی کیا۔ جب نگران وزیر داخلہ دیر سے اجلاس مےں پہنچے تو چیئرمین سینٹ ان پر برس پڑے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے ارکان اتنے ہی مصروف ہیں تو سینٹ کا اجلاس ہی نہ بلایا جاتا۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ہمیں تو ابھی بھی اٹک قلعہ دکھائی دیتا ہے۔ سینیٹر رفیق رجوانہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے گھر کو سب جیل قرار دینا قانون کو مذاق بنانا ہے۔ سےنیٹر ظفر علی شاہ نے کہا کہ مشرف کا فارم ہاﺅس جس حلقے میں ہے وہاں ہیلی پیڈ بھی ہے۔ خطرہ ہے کہ خفیہ طاقتیں انہیں وہاں سے نہ لے جائیں۔ پرویز مشرف کا ٹرائل کرنا ہے تو اڈیالہ جیل منتقل کرنا ضروری ہے۔ نگران وزیر داخلہ ملک حبیب سینٹ میں قائد ایوان کی نشست پر بیٹھے تو سےنیٹر رضا ربانی نے اعتراض کیا کہ قائد ایوان کی نشست پر اجنبی بیٹھا ہوا ہے۔ اس پر نگران وزیر داخلہ نے نشست تبدیل کر لی۔ ایوان میں لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ اسلام آباد اور پشاور ہائیکورٹ نے سینٹ کو زیر التوا مقدمات کی تفصیل فراہم کرنے سے معذرت کی۔ وزارت قانون نے دونوں ہائیکورٹس کا تحریری جواب سینٹ میں پیش کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اب تک لئے گئے ازخود نوٹسز کا ریکارڈ دینے سے معذرت کی۔ نگران وزیر داخلہ کے ایوان میں نہ آنے پر ارکان نے سینٹ سے واک آﺅٹ کیا۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ نگران وزیر داخلہ کو طلب کیا گیا وہ نہیں آئے، معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ ملک حبیب خان نے اجلاس میں تاخیر سے آنے پر معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف سرکاری تحویل میں ہیں ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دےدیا گیا ہے۔ پرویز مشرف نان ایشو ہے اس پر بحث نہ کی جائے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کوئی سابق فوجی آمر گرفتار ہوا ہے اس پر حکومت کی تعریف ہونی چاہئے۔ اسحاق ڈار، رضا ربانی، زاہد خان، مشاہد اللہ خان نے پرویز مشرف کے معاملے کو نان ایشو قرار دینے پر وزیر داخلہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ سابق وزرائے اعظم کو ہتھکڑیاں لگیں، فوجی آمر کو جیل بھجوانے میں کیا قباحت ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر حاجی عدیل نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ نگران حکومت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہیں بلا سکتی، یہ غیر آئینی ہے۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر رولنگ نہیں دے سکتے۔ اگر رولز کے مطابق یہ معاملہ اٹھایا جائے تو شدید رولنگ دینے کو تیار ہیں۔ نگران وفاقی وزیر پانی و بجلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا ہے کہ ملک میں 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، ماضی میں گردشی قرضوں کے مسئلے کے حل کی طرف توجہ نہیں دی گئی، مہنگی بجلی بنا کر سستی فراہم کرنے کے قانون کی منظوری کے وقت نتائج کا کسی نے نہیں سوچا جبکہ ارکان نے کہا کہ وزیر پانی و بجلی توہین آمیز زبان استعمال نہ کریں، ہمیں لیکچر دینے کی ضرورت نہیں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ملک میں واقعی لوڈ شیڈنگ بعض علاقوں میں 18 گھنٹے کی ہے۔ شہروں میں اس وقت تقریباً 12 اور دیہات میں 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ قبل ازیں بحث میں حصہ لیتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کا شدید بحران ہے اس مسئلے کے حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ بجلی کا مسئلہ حل کئے بغیر ملک میں ترقی کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ گردشی قرضے کی وجہ سے توانائی کے بحران کے حل میں شدید مشکلات ہیں۔ بجلی کی پیداواری گنجائش انتہائی کم ہے۔ بجلی چوری اور لائن لاسز کی صورت میں روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ بعدازاں وزیر پانی و بجلی کی تقریر کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار نے نکتہ اعتراض پرکہا کہ وزیر پانی و بجلی توہین آمیز زبان استعمال نہ کریں، ہمیں لیکچر دینے کی ضرورت نہیں۔ آئی این پی کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلائے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے نگران حکومت کا غیر آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہیں بلا سکتی‘ وزیر قانون احمر بلال صوفی نے تنقید پر ایوان کو بتایا کہ ایوان میں ارکان کی طرف سے جن تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے شرکا کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ آج مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس غیر آئینی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی تحلیل ہے۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ اس اجلاس کو امن و امان کے معاملے پر اجلاس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ نگران حکومت کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کا اختیار نہیں۔ سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی انتخابی مہم میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، وفاقی وزیر پانی و بجلی ڈاکٹر مصدق ملک نے تقریر کے دوران اپنے بعض ریمارکس پر معذرت کر لی۔ متحدہ قومی موومنٹ نے ایک ہفتے کے دوران ایم کیو ایم کے 10 ذمہ داران و کارکنان سمیت امیدوار کی شہادت کے خلاف اور انتخابی مہم کے دوران تحفظ کی عدم فراہمی پر احتجاجاً جمعہ کے روز سینٹ سے واک آ¶ٹ کر دیا۔ کرنل (ر) طاہر مشہدی نے کہا کہ انتخابی ماحول جاری ہے تاہم روزانہ کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے اہم کارکنان و ذمہ داران کو شہید کیا جا رہا ہے جبکہ انتخابی امیدواروں اور کارکنان کو کوئی تحفظ نہیں دیا جا رہا ہے۔ بعدازاں سینٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔