اے این پی پر حملے پنجاب کو بچانے کی پاداش میں شروع ہوئے: اسفند یار

اسلام آباد (ثناءنیوز+ نوائے وقت نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ اے این پی حملوں کی پرواہ کئے بغیر انتخابی مہم بھی چلائے گی اور انتخابات میں حصہ بھی لے گی۔ اے این پی پر حملے پنجاب کو بچانے کی پاداش میں شروع ہوئے ورنہ ہمارا طالبان سے کوئی جھگڑا نہیں صرف نظریاتی اختلاف ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں اسفند یار ولی نے کہا کہ موت کے خوف سے ہم ملک و قوم کی خدمت سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دیر آید درست آید کے مصداق کم از کم ایک ڈکٹیٹر کو پکڑ تو لیا گیا ہے جن لوگوں نے ججز کو گرفتار کیا آج وہ ججز کی قید میں ہیں اور جس وزیراعظم نے ججز کو رہا کیا انہی ججز نے اس کو وزیراعظم ہاﺅس سے رہا کر دیا اب عدلیہ کا بہت بڑا امتحان ہے دیکھتے ہیں مشرف کے ساتھ کیا کرتی ہیں۔ اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل کا اثر انتخابات پر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا اے این پی پر حملوں کا سلسلہ 2008ءسے شروع ہوا جب ہماری خیبرپی کے میں حکومت بنی تو کچھ دنوں کے بعد میں پشاور سے اسلام آباد آرہا تھا تو مولانا فضل اللہ کا فون آیا اور مجھ سے کہا کہ پنجاب تمہیں حقوق نہیں دے رہا، ہمیں پنجاب کو سبق سکھانے کے لئے راستہ دے دو جس پر میں نے کہاکہ وہاں جاکر تم عام آدمی کو مارو گے اس لئے میں تمہیں راستہ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور میں پمفلٹ تقسیم ہوئے ہیں کہ کوئی آدمی اپنے گھر پر اے این پی کا جھنڈا نہیں لگائے گا یا سٹکرز نہیں لگائے گا وگرنہ نتائج کا ذمہ دار خود گھر والا ہو گا۔ ایک سوال پر اسفند یار ولی نے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ غلام احمد بلور پر گذشتہ دنوں ہونے والے حملے کے بعد صرف صدر زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ہمیں فون کرکے تعزیت کی اور کسی کا فون تک نہ آیا میں کہتا ہوں آج ہماری باری ہے تو کل ان لوگوں کی آئے گی جو آج خاموش بیٹھے ہیں۔ اسفند یار ولی نے کہا منشور کے مطابق ہم دفاعی بجٹ کم کریں گے لیکن اس کا مطلب ٹینک، میزائل، توپ کم کرنا نہیں بلکہ انفراسٹرکچر میں کمی کریں گے اگر الیکشن ملتوی ہوئے تو پاکستان کے حالات ایسے ہوں گے کہ اس وقت کو ترسیں گے تاہم 11مئی کے الیکشن ملتوی ہوتے نظر نہیں آ رہے۔